تلاش
دقیق تر تلاش
English | فارسی | Urdu | Az | العربی
صفحه اصلی > معاونت ها و بخش های مجتمع > شعبہ تحقیقات > تحقیقات پرتو 

دینی سوالات بهجیں

سوالات اور جوابات کے عناوین



  چاپ        ارسال به دوست

دینی سوالوں کے جوابات(36)

اسلام اور معاشرے کی ترقی

 

 

سوال:

کیا اسلام دنیاوی ترقی کا مخالف ہے؟

 

جواب:

مقدمہ

اگر دنیا میں لوگوں کے حالات پہ ہم نظر ڈالیں تو یہ واضح طور پر محسوس ہوگا کہ غیر اسلامی ممالک نے کافی ترقی کی ہے، وہ جدید ٹیکنالوجی اور وسائل سے پوری طرح لیس ہیں۔ وہاں کے لوگ رفاہ و آسائش سے معمور زندگی بسر کرتے ہیں اور ہر طرح کی سہولتیں ان کے لیے میسر ہیں۔ مگر اسلامی ممالک اختلافات، بدامنی اور فقر و بدبختی سے جوجھ رہے ہیں، ہر طرح کی سہولت سے محروم،یاس و حرماں نصیبی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس جہت سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسلام، دنیاوی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس نے لوگوں کو فقر و محرومی پہ مجبور کر رکھا اور ان کی ترقی پر روک لگا دی ہے۔

 

مذکورہ سوال کا جواب پانے کے لیے سب سے پہلے ہم تین نکتوں کی جانب توجہ دلانا چاہتے ہیں:

 

1۔ دنیاوی ترقی سے مراد، مادی وسائل اور سہولتوں کو زندگی کی آسائش اور رفاہ کے لیے حاصل کرنا ہے۔ جیسے اچھا گھر، نئی گاڑیاں، جدید طرز کے مواصلاتی آلات، تعلیم اور صحت عامہ کی سہولتیں، خوبصورت اور صاف ستھرا شہر اور انتظامی خدمات وغیرہ کہ جنہیں ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کے لیے فراہم کیا جاتا ہے تا کہ وہ آسائش بھری زندگی بسر کرسکیں۔

 

2۔ ماہرین عمرانیات کی نظر سے قوموں کی ترقی اور بالیدگی کے عوامل سے مراد، سلامتی، قومی اتحاد و یکجہتی، تعاون، علم و دانش، سعی و تلاشاور ہدف کی راہ میں فداکاری و ایثار ہے۔(1)

 

3۔ اسلام سے مراد، دین اسلام ہے، مسلمانوں اور منصب داروں کا عمل نہیں۔ دین یعنی "عقائد، اخلاق اور ایسے اصول و قوانین کا مجموعہ جو انسان، انسانی معاشرے کی مدیریت اور وحی و عقل کی مدد سے انسانوں کی تربیت کے لیے لوگوں کو دیا گیا"۔(2)

 

مذکورہ بالا تعریف کے مطابق دین وہی ہے جو خدا کی طرف سے آیا ہے، جس کا سرچشمہ دین اور انسان کی عقل ہے۔ دینی مصادر میں کتاب اور پیغمبر اکرم(ص) و ائمہ اطہار(ع) کی سیرت و سنت شامل ہیں۔ کتاب سے مراد قرآن اور سنت سے مراد معصوم کا قول اور فعل ہے۔ اس بنا پر اسلام وہی ہے جو کتاب و سنت میں موجود ہے، اسلامی معاشرے کا عمل اور کردار معیار نہیں ہے۔

جب دنیاوی ترقی کا مفہوم، ترقی کے اسباب اور اسلام کی تعریف واضح ہوگئی تو اب ہم دینی مصادر کا جائزہ لیں گے کہ اسلام نے دنیاوی ترقی کے بارے میں کیا نظریہ دیا ہے؟ کیا واقعی طور پر اسلام ترقی کی راہ میں حائل ہے یا اسی نے ترقی کی بنیاد رکھی ہے؟

ایک کلی نظر سے ہم دینی مصادر میں ترقی کے اسباب کو بیان کریں گے کہ اسلام نے اس سلسلے میں کیا کہا ہے، اور ان اسباب کا دین میں کیا مقام ہے۔ البتہ تفصیلی جائزہ کا موقع نہیں ہے اس لیے ہم صرف جواب واضح ہوجانے کی حد تک ہی دینی متون میں ترقی کے اسباب و عوامل کو بیان کریں گے۔

 

 

1) امن اور سلامتی

سلامتی، ترقی کے بنیادی ارکان میں سے ہے۔ اگر معاشرے سے سلامتی چلی جائے تو حصول تعلیم اور قومی یکجہتی، تعاون اور تلاش و کوشش کو باقی رکھنا مشکل ہوجائیگا۔نتیجے میں تمام صلاحتیں جان و مال کی حفاظت میں صرف ہوجائیں گی اور کسی بھی طرح کی ترقی حاصل نہیں ہوپائے گی۔ بلکہ معاشرہ پسماندگی کا شکار ہوجائیگا۔ اسی لیے اسلام کی حیات آفریں تعلیمات نے اخلاقی و عقیدتی احکام و فرامین کے ذریعے لوگوں کو دوسروں کے حقوق کی رعایت کرنے کا حکم دیا ہے، ان کی جان و مال اور عفت کو محترم جانا ہے اور کسی بھی طرح کی تعدی و تجاوز سے روکا ہے۔ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا: "ايهاالناساندمائكمواعراضكمعليكمحرام"(3)۔ اے لوگو! تمہارے خون اور تمہاری آبرو ایک دوسرے پر حرام ہے۔

اسلام نے کسی بھی طرح سے نقصان پہنچانے اور دوسروں کی عزت اور جان و مال میں تعدی و تجاوز کو حرام جانا ہے اور آخرت کے دردناک عذاب سے ڈرایا ہے۔ اس کے بعد اسلام نے ناامنی کے اسباب کا شدت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا قرار دی ہے، محاربہ کرنا اور لوگوں میں دہشت پھیلانے کی سزا پھانسی معین کی ہے، لواط اور زنا جیسی برائیوں کی سزا کوڑے یا پھانسی رکھی اور عمدی قتل کی سزا قصاص وضع کی ہے۔ اسی طرح لوگوں کے جانومال اور ناموس میں کسی بھی قسم سے تجاوز کو اسلام نے جرم شمار کیا اور اس کے لیے سزا معین کی ہے۔(4) یہ تمام قوانین معاشرے کو پر امن اور صحتمند بنانے کے لیے وضع کئے گئے ہیں۔

اسلام نے داخلی امن و امان کے علاوہ خارجی دشمنوں کے سامنے  اسلامی معاشرے کی سلامتی کی طرف بھی توجہ کی ہے اور دشمنوں کے کسی بھی طرح کے تسلط کو ناقابل تحمل قرار دیا ہے: "وَلَنْيَجْعَلَاللَّهُلِلْكافِرينَعَلَىالْمُؤْمِنينَسَبيلا"۔(5) معروف حدیث جسے شیعہ و سنی دونوں نے نقل کیا ہے کہ جس کے مطابق امت مسلمہ کو سب سے برتر بتایا گیا اور اور دوسروں کی برتری کی نفی کی گئی ہے: "الاسلاميعلوولايعليعليه"۔(6) بیرونی دشمنوں کے حملوں سے بچنے کے لیے اسلام نے پہلے مسلمانوں کو کفار کی دوستی سے منع کیا: "ياأَيُّهَاالَّذينَآمَنُوالاتَتَّخِذُواالْيَهُودَوَالنَّصارى‏أَوْلِياءَ"۔(7) اور اس کے بعد اپنی دفاعی قوت کو بڑھانے اور سلامتی کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے: "وَأَعِدُّوالَهُمْمَااسْتَطَعْتُمْمِنْقُوَّه..."۔(8) اس آیت میں لفظ "قوت" مطلق صورت میں آیا ہے کہ جس میں علمی، معاشی، عسکری، سیاسی اور سماجی سبھی طرح کی توانائیاں شامل ہیں کہ جنہیں زمان و مکان کے تقاضے کے مطابق اسلامی معاشرے کی سلامتی اور اس کے استقلال کے لیے بروئے کار لایا جاتا ہے۔

 

2) قومی یکجہتی

قومی یکجہتی اور اس کا اتحاد اسلامی معاشرے کی ترقی اور بالیدگی کا اہم عنصر اور سبب ہے کہ جس کا انسان کی عقل سلیم حکم دیتی ہے۔ جن اقوام نے یکجہتی اور اتحاد کے ساتھ اپنی خداداد صلاحیتوں کو استعمال کیا اور سعی و تلاش کی، انہیں یقینی طور پر کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں کہ جن کے بےپناہ نمونے تاریخ میں ملتے ہیں۔ اسلام جو کامل اور جامع دین ہے اس نے مسلمانوں کے اتحاد کو کافی اہمیت دی ہے۔ رنگ، نژاد اور جغرافیہ کے باوجود اس نے تمام مسلمانوں کو "امت واحدہ" کہا ہے، ارشاد ہوا: "وَإِنَّهذِهِأُمَّتُكُمْأُمَّهواحِدَهوَأَنَارَبُّكُمْفَاتَّقُون"۔(9) اسلامی معاشرہ وہ ہے جس کا ایک ہدف، ایک رہبر ہوتا ہے، ایک دین ہوتا ہے اور وہ سب متحد ہوکر خدا کی جانب قدم بڑھاتے ہیں۔ اسلام نے امت کے تمام افراد کو اتحاد کی طرف بلایا ہے کہ وہ سب دین الٰہی کے محور پر جمع ہوں اور اختلافات سے پرہیز کریں کیونکہ اس کا نتیجہ تنزلی اور انحطاط ہے۔ "وَاعْتَصِمُوابِحَبْلِاللَّهِجَميعاًوَلاتَفَرَّقُوا"۔(10) اسلام نے امت اسلامی میں اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے قبیلے، علاقے اور رنگ و نژاد کی برتری کو منفور نظروں سے دیکھا ہے اور اگر کسی شیئ کو برتری کی وجہ بتائی ہے تو وہ تقویٰ اور پارسائی ہے۔ پیغمبر اکرم(ص) نے حجۃ الوداع کے موقع پر مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "كلكملآدموآدممنترابوليسلعربيعليعجميفضالالابالتقوي"۔(11) تم سب آدم(ع) کی نسل سے ہو، اور آدم(ع) کو مٹی سے خلق کیا گیا ہے، اس بنا پر عرب کو عجم اور عجم کو عرب پر کسی قسم کی برتری نہیں ہے، مگر یہ کہ وہ تقوائے الہی حاصل کرلے۔ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام نے حقیقت بینیاور ژرف نگری کے ذریعے اتحاد کے اسباب و موانع کو شفاف طریقے سے بیان کیا ہے تا کہ ان رہنمائیوں کے سائے میں مسلمان مادی و معنوی ترقی کی راہوں کو طے کرسکیں اور تنزلی اور انحطاط سے محفوظ رہیں۔

 

3) تعاون اور باہمی امداد

قوموں کی ترقی کا ایک دوسرا سبب ان کے درمیان پایا جانے والا تعاون اور امدام باہمی کا جذبہ ہے۔ جس قوم میں تعاون اور فداکاری کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے اس میں صلاحیتیں بروئےکار آتی ہیں اور مشکلیں یکے بعد دیگرے برطرف ہوتی رہتی ہیں اور ترقی کے راستے ہموار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ حیات آفریں مکتب اسلام نے اس سبب کی جانب خاص توجہ کی ہے اور ہمیشہ اس نے باہمی تعاون بلکہ اس سے بھی بڑھکر ایثار و فداکاری کی نصیحت کی ہے۔ صدر اسلام میں مسلمانوں کی ترقی، تعاون اور فداکاری کی مرہون رہی ہے۔(12)

اسلام نے ہر مسلمان کو ایک گھر اور خاندان کا رکن شمار کیا اور ان سب کو ایک دوسرے کا بھائی جانا ہے: "انماالمؤمنوناخوه"۔(13) ایک دوسری آیت میں مسلمانوں کو نیک اور اچھے کاموں میں ایک دوسے کا ہاتھ بٹانے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: "وَتَعاوَنُواعَلَىالْبِرِّوَالتَّقْوى"۔(14) معاشرے کی ترقی اور فلاح کے لیے سعی و تلاش کرنا عقلی و شرعی اعتبار سے نیکی کے واضح مصادیق میں سے ہے کہ جس کی اسلام نے بہت تاکید کی ہے۔ دوسری طرف سے کسی معاشرے کی فکری و سماجی ترقی کی راہ میں حائل بننا اور اس کے اجتماعی امور کے لیے سازشیں کرنا، نیز اس پر کفر و فسق کا الزام لگانا معصیت الٰہی کے واضح نمونوں میں سے ہے کہ جس سے اسلام نے روکا ہے: "وَلاتَعاوَنُواعَلَىالْإِثْمِوَالْعُدْوان"۔(15) اسلام نے اپنی تعلیمات میں تعاون سے بڑھکر ایثار اور فداکاری کو بیان کیا ہے کہ دوسروں کی مشکلات و ضروریات کو اپنے اوپر ترجیح دو اور اگر تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو تم اسے اپنے مومن بھائی کو دو۔ فداکاری کے نمونے تاریخ اسلام بالخصوص دینی رہنماؤں کی زندگی میں واضح طور پر نظر آتے ہیں جو کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔(16)

 

4) علم و دانش

انسان کی معنوی و مادی زندگی کی ترقی کا ایک اہمترین سبب، علم و دانش ہے کہ جس کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ یہ علم ہی ہے جس کے سائے میں نت نئی چیزیں کشف اور ایجاد ہوتی ہیں اور زندگی کے امور میں رونق آتی ہے۔ جس قوم کو بھی مادی و معنوی ترقی نصیب ہوئی ہے اسے علم و دانش کی وجہ سے ہی ملی ہے۔ چنانچہ جہالت اور لاعلمی کا براہ راست اثر دنیا و آخرت کی پسماندگی اور ذلت و خواری پر پڑتا ہے۔

یہ علم کا مرتبہ ہی ہے کہ آغاز وحی میں علم و حکمت کے بارے میں گفتگو کی گئی اور لکھنے پڑھنے کو بیان کیا گیا: "اقْرَأْبِاسْمِرَبِّكَالَّذيخَلَقَخَلَقَالْإِنْسانَمِنْعَلَقٍاقْرَأْوَرَبُّكَالْأَكْرَمُالَّذيعَلَّمَبِالْقَلَم"۔(17) اسلام نے جاہل اور عالم کو الگ الگ نظروں سے دیکھا ہے کہ عالموں کو جاہلوں کے ساتھ ہم مرتبہ نہ سمجھو "هَلْيَسْتَوِيالَّذينَيَعْلَمُونَوَالَّذينَلايَعْلَمُون"۔(18)ایک دوسری آیت میں عالموں کو اہل ایمانکے ہم پلہ جانا ہے اور ان کے لیے عظیم مرتبے کا وعدہ یا ہے: "يَرْفَعِاللَّهُالَّذينَآمَنُوامِنْكُمْوَالَّذينَأُوتُواالْعِلْمَدَرَجات"۔(19)

آیات کے علاوہ بےشمار روایتیں بھی علم کی فضیلت اور معاشرے کی ترقی میں اس کی اہمیت کو بیان کرتی ہیں اور معصومین(ع) نے اسے حاصل کرنے کی تاکید کی ہے۔ رسول اکرم(ص) نے فرمایا: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔(20) ایک دوسری روایت میں فرمایا: علم حاصل کرو گرچہ وہ چین میں ہی کیوں نہ ہو۔(21) اس حدیث کے مطابق علم کا حاصل کرنا جغرافیائی حدود میں محدود نہیں ہے اور علم بھی دینی علوم میں ہی محصور نہیں ہے بلکہ ہر وہ علم جو مادی و معنوی زندگی کی فلاح کے لیے مفید ہو اور اس کے ذریعے معاشرے کی مشکلات حل ہوں اس علم کو سیکھنا چاہئے۔

 

5) سعی و تلاش

اگر مذکورہتمام اسباب مہیا ہوں مگر جد و جہد نہ کی جائے تو کسی بھی طرح کی ترقی حاصل نہیں ہوسکتی۔ علم اسی وقت مفید ہے کہ جب اسے استعمال کیا جائے اور معاشرے کے لوگ ترقی کے لیے کوششیں کریں اور سستی سے پرہیز کریں۔ ورنہ علم کا ہونا نہ ہونا برابر ہوگا۔

اسی لیے مکتب اسلام نے مسلمانوں کو تاکید کی ہے کہ وہ اپنی مادی و معنوی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوشش کریں اور اپنی دنیوی و اخروی زندگی کو بہتر بنائیں۔ ارشاد ہوا: "وَأَنْلَيْسَلِلْإِنْسانِإِلاَّماسَعى "۔(22) اسلام کی نظر سے زمین کی تمام نعمتیں انسان کی سہولت کے لیے خلق کی گئی ہیں۔ بشر کی ذمہ داری ہے کہ علم و دانش کے سائے میں محنت مشقت کرے اور خدا کی فراواں نعمتوں سے اچھی طرح استفادہ کرے اور اسراف سے گریز کرے۔ اسلام کی نظر میں انسان زمین سے خلق کیا گیا ہے اس لیے اسے آباد رکھنے کی ذمہ داری بھی انسان ہی کی ہے۔(23)

کسب معاش اور زندگی کی ترقی کے حوالے سے کافی روایتیں وارد ہوئی ہیں۔ امام صادق(ع) نے فرمایا: "اناللهيبعضكثرتالنوموكثرتالفراغ "َ(24)۔ خداوند متعال زیادہ سونے اور بےکاری کو پسند نہیں کرتا۔ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ"منكسلعمايصلحبهامرمعيشتهفليسفيهخيرلامردنياه"(25)۔ جو شخص اپنی معیشت سدھارنے کے لیے کوشش نہیں کرتا اس کی دنیاوی اور اخروی زندگی میں خیر و برکت نہیں ہوتی۔ اور فرمایا: "لاتكسلوافيطلبمعايشكم"(26)۔ کسب معاش میں سستی اور کاہلی سے کام نہ لو۔

رسول اکرم(ص) سے مروی ہے: "العبادهسبعونجزءافضلهاطلبالحلال"(27)۔ عبادت کے ستر حصے ہیں اور ان میں سب سے عظیم حصہ، رزقِ حلال کو حاصل کرنا ہے۔ اس حدیث میں زندگی کے لیے سعی و تلاش کو بہترین عبادت میں شمار کیا گیا ہے۔ البتہ اس کا مطلب نماز روزے جیسی دوسری عبادتوں کی نسبت بےتوجہی برتنا نہیں ہے کہ بعض لوگ بہانہ کریں اور کہیں کہ ہم تو کام کر رہے ہیں اور کام کرنا بہترین عبادت ہے اس لیے نماز روزے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کسب معاش دوسری عبادتوں کی جگہ نہیں لے سکتا بلکہ کام کاج اسی وقت باارزش کہلائیں گے کہ جب انہیں دوسری عبادتوں کے ساتھ قرار دیا جائے۔ امام باقر(ع) نے فرمایا: "جو شخص اپنا حلال رزق حاصل کرنے کے لیے کوشش کرے تا کہ وہ اپنا اور اپنے عیال کا نفقہ پورا کرسکے تو گویا اس نے راہ خدا میں جہاد کیا ہے"۔(28)

آیات و روایات کے علاوہ پیغمبر اسلام(ص) اور ائمہ اطہار(ع) کی سیرت بھی یہی رہی کہ آپ حضرات(ص) معنویت کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہونے کے باوجود محنت مشقت کیا کرتے تھے۔ امام علی(ع) کنواں کھود کر اور باغ لگاکر غلاموں کو آزاد کیا کرتے تھے۔ امام صادق(ع) نے فرمایا: امام علی(ع) نے اس طرح ہزار غلاموں کو آزاد کرایا ہے۔(29)

علی بن ابی حمزہ نے امام کاظم(ع) سے عرض کیا: مولا! کیوں آپ خود ہی کام کرتے ہیں، غلاموں سے کیوں نہیں استفادہ کرتے؟ امام(ع) نے فرمایا: مجھ سے اور میرے والد سے زیادہ بہتر لوگ بھی گزرے ہیں جو اپنے ہاتھوں سے زمین میں کام کیا کرتے تھے۔ رسولخدا(ص)، امیر المومین(ع)، میرے آباء و اجداد اور تمام انبیاء، اوصیاء و صلحاء اپنے ہاتھوں سے کام کیا کرتے تھے۔(30)

اس بنا پر دینی مصادر اور قائدین اسلام کی سیرت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ زندگی کی ترقی اور آسائشوں کے لیے کوشش اور محنت کرنا نہایت ضروری امر ہے، جس کا شمار عبادتوں بلکہ سب سے برتر عبادت میں ہوتا ہے۔ اسلام کی نظر میں حلال راستے سے رزق حاصل کرنے اور خمس و زکوٰۃ جیسے شرعی حقوق کو ادا کرنے میں کسی قسم کی محدودیت نہیں ہے۔

ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام نے زندگی میں ترقی کے اسباب کو کافی اہمیت کی نظروں سے دیکھا ہے اور مسلمانوں کو ان کی رعایت کرنے کا حکم دیا ہے تا کہ وہ عزت و سربلندی کی زندگی گزار سکیں اور کفار و اغیار کے تسلط سے آزاد رہیں۔(31) جس طرح اسلام نے ترقی کے اسباب کو بیان کیا ہے اسی طرح پسماندگی کے اسباب کو بھی منفور قرار دیا ہے جیسے ناامنی، اختلاف و تبعیض، جہالت و نادانی، سستی و تغافل اور تعاون کا فقدان وغیرہ۔ ان امور سے اسلام نے مسلمانوں کو پرہیز کرنے کا حکم دیاہے۔

 

اب ہم اصلی سوال کی جانب لوٹتے ہیں کہ کیا اسلام دنیاوی زندگی کی ترقی میں مانع ہے؟

دین کی تعریف، ترقی کے اسباب اور اسلامی تعلیمات میں ان کی منزلت کا جائزہ لینے کے بعد یقیناً اس سوال کا جواب منفی ہوگا۔ کیونکہ اسلام نہ صرف ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہے بلکہ خود ترقی کا موجب ہے۔

آج جو مسلمان فقر و زبوں حالیکا شکار ہیں اس کی وجہ اسلام نہیں ہے۔ بلکہ اس کے ذمہ دار خود مسلمان ہیں کہ جنہوں نے حیات آفریں اسلامی تعلیمات کو یا تو اچھی طرح درک  نہیں کیا ہے یا اس پر اچھی طرح عمل نہیں کیا ہے۔

اسلام نے امن وامان کو برباد کرنے والے اسباب کی مخالفت کی ہے اور کسی بھی طرح سے دوسروں کو نقصان پہنچانے یا ان کے امور میں تجاوز کرنے سے روکا ہے تا کہ چوری، فساد و فحشاء اور بداخلاقی اسلامی معاشرے میں پھیلنے نہ پائے مگر جس طرح ان نصیحتوں کا حق بنتا ہے اس طرح ان پر عمل نہیں کیا جاتا۔ اسلام نے لوگوں کو قومی یکجہتی اور اتحاد کی جانب دعوت دی ہے، علاقائی، قومی اور نسلی اختلافات و تعصبات دور رکھنے کو کہا ہے اور مسلمانوں کو ایک امت کا نام دیا ہے مگر مسلمان دوسروں سے زیادہ نفاق، تبعیض اور اختلافات کی آگ میں جل رہے ہیں اور اسلام کی تعلیمات پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔

کسی بھی مکتب سے زیادہ اسلام نے بھائی چارے اور امداد باہمی کی تاکید کی ہے کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہوں اور ایک دوسرے کی مدد کریں اور دنیا و آخرت کی ترقی میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں۔ مگر ان تعلیمات پر کس نے عمل کیا؟ وہ برادری اور تعاون کہاں ہے جس کو اسلام نے ہم سے چاہا ہے؟ بلکہ ہم تو بھائی چارے اور تعاون کی جگہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں، ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے ہیں کہ جس کے تلخ جام بھی ہم پی رہے ہیں۔

اسلام، سستی، تغافل اور بدنظمی کا سختی سے مخالف ہے اور اس نے مسلمانوں کو ہمیشہ سعی و تلاش کی تاکید کی ہے کہ وہ زمین کو آباد کریں اور خدا کی نعمتوں سے بہرہ مند ہوں اور اپنی زندگی کو سنواریں، مگر ہم ان تعلیمات ہر کان دھرتے ہیں اور نہ ان پر عمل کرتے ہیں۔

اس بنا پر اسلام ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہے۔ اگر مسلمان فقر و تنگدستی کی زندگی بسر کررہے ہیں تو اس میں اسلام کا قصور نہیں ہے بلکہ یہ براہ راست خود مسلمانوں سے مربوط ہے۔ بعض بدحالیوں کی وجہ تو خود عوام ہیں کہ جنہوں سے اسلامی تعلیمات کو صحیح سے حاصل نہیں کیا اور اس پر عمل پیر انہیں ہوئے۔ اور بعض وجوہات کا تعلق ظالم اور ستم پیشہ حکومتوں سے ہے کہ جن کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق استعماری طاقتوں سے ہے، یہ حکومتیں جان بوجھ کر لوگوں کو فقر و تنگدستی کی زندگی گزارنے پر مجبور کرتی ہیں، ان کے درمیان علاقائی، قومی اور نسلیاختلافات کو بڑھاوا دیتی ہیں تا کہ آسودہ خاطر ہوکر اپنے ناپاک عزائم کو پورا کرسکیں۔ اگر واقعاً ہم انصاف کی نظر رکھتے ہیں تو ہمیں کتاب و سنت میں موجود اصل دین اور مسلمانوں کے کردار دونوں کو الگ الگ رکھ کر دیکھنا چاہئے۔ ایسی صورت میں ہمیں واضح طور پر محسوس ہوگا کہ اسلام ترقی کا مخالف نہیں ہے بلکہ وہ لوگوں کو ترقی چاہتا ہے۔ ترقی کی راہ مین حائل شیئ مسلمانوں کے عمل میں پوشیدہ ہے کہ جس کے علاج کے لیے کوشش کرنی چاہئے تا کہ موانع برطرف ہوسکیں۔

شاعر کے بقول:

اسلامبهذاتخودنداردعيبيهرعيبيكههستدرمسلمانيماست

اس بنا پرزندگی کی دوڑ میں ترقی حاصل کرنے کے لیے ہمیں اپنی طرف توجہ کرکے کمیوں کو برطرف کرنا چاہئے۔ البتہ اس سلسلہ میں حکومت کی نالائقی بھی دخیل ہے کہ جس میں سدھار آنا چاہئے۔ بہرکیف اسلام کسی بھی طرح دنیاوی ترقی کا مخالف نہیں ہے بلکہ اسلام کا وجودی فلسفہ بھی یہی ہے کہ دنیا و آخرت کی سعادت کو انسان کے لیے فراہم کیا جائے۔

اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے بےشمار واضح دلیلیں پائی جاتی ہیں۔ منجملہ یہ کہ تمام اسلامی معاشرے تنزلی کا شکار نہیں رہے ہیں بلکہ اسلامی تمدن کے دور اقتدار میں اسلامی معاشرہ علم و تمدن کیاعلیٰ مثال تھا۔ اس دورے میں اسلام ترقی اور بشری تہذیب کا علمبردار تھا اور ہر جگہ علم اور آزادی کا نور بکھیر رہا تھا اور قوموں کو ذلت و پسماندگی سے نکال کر عزت و ترقی کی جانب دعوت دے رہا تھا۔ اس زمانے میں مسلمانوں نے مختلف شعبہ ہای حیات میں ترقی حاصل کی تھی، جیسے طب، دواسازی، ہسپتالوں کی تعمیر، مدارس اور کتابخانوں کی تأسیس، علوم فلسفہ، نجوم، ہیئت، جبر، ہندسہ اور فنون لطیفہ وغیرہ۔ اسلام نے خانہ بدوش عرب معاشرے کو ایک متمدن اور ترقی یافتہ معاشرے میں تبدیل کیا۔ کہ جس کے نتیجے میں اسلامی خلافت کا مرکز یعنی بغداد، اہل علم و فضل کا قبلہ اور مرکز قرار پایا۔(32) اس زمانے میں مغرب کی سرزمین تاریکی اور جہالت میں ڈوبی ہوئی تھی اور صدیوں تک مسلمانوں کے علمی آثار وہاں کے علمی مراکز میں تدریس کئے جاتے تھے۔ اور ابن سینا کی بعض کتابیں تواٹھارہویں صدی عیسوی تک پڑھائی گئیں۔(33)

اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس زمانے میں مسلمان علم، ایمان، پختہ ارادے اور جذبہ اخوت، فداکاری اور جہاد سے مالامال تھے اس زمانے میں انہیں بڑی بڑی کامیابیاں نصیب ہوا کرتی تھیں۔ مگر جیسے ہی علم و ایمان کو گوشہ نشیں کردیا گیا اور فداکاری، تعاون، جہاد اور محنت مشقت کے جذبے کو پامال کردیا گیا، تنزلی اور انحطاط مسلمانوں کا مقدر بن گیا۔ اسی لیے شہید مطہری(رح) کی تعبیر کے مطابق اسلامی تمدن کی تاریخ دو حصوں مین تقسیم ہوتی ہے: ترقی اور خوشحالی کا دور کہ جو علم و ایمان کا زمانہ ہے اور تنزلی و بدحالی کا زمانہ کہ جس میں علم و ایمان ناپید ہیں۔(34)

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ ڈاكٹر علي‌اكبر ولايتي، فرهنگ و تمدن اسلامي، ص 20، قم، نشر معارف، 1384؛ وايولاكوست، جهان‌بيني ابن خلدون، ترجمه مظفر مهدوي، ص 9 و 38 و 33، تهران، 1363.

2۔ جوادي آملي، دين‌شناسي، ص 27، قم، نشر اسراء، 1383؛ شريعت در آينه معرفت، ص 111، طبع سوم، 1381.

3۔ ابن شعبه حراني، تحف العقول، ص 31، مطبع كتابچي، 1376.

4۔ قرآن كريم، شرح لمعه، كتاب حدود، ديات و قصاص.

5۔ نساء، آيت 141.

6۔ حرعاملي، وسائل الشيعه، ج 17، ص 460؛ كنزالعمال، ج 1، ص 17.

7۔ نساء، آيت 51.

8۔ انفال، آيت 60.

9۔ مؤمنون، آيت 52.

10۔ آل عمران، آيت 103.

11۔ تحف العقول، ص 33.

12۔ ناصر مكارم شيرازي، ناصر، تفسير نمونه، ج 7، ص 29 و 210، تهران، دارالكتب الاسلاميه، 1357.

13۔ حجرات، آيت 10.

14۔ مائده، آيت 2.

15۔ ایضاً.

16۔ مكارم شيرازي، ایضاً، ص 210.

17۔ علق، آيات 1 – 4.

18۔ زمر، آيت 9.

19۔ مجادله، آيت 11.

20۔ كليني، اصول كافي، ج 1، ص 82، قم، اسوه، چوتھا ایڈیشن، 1381.

21۔ محمدي ري‌شهري، ميزان الحكمه، ج 8، ص 3946، قم، دارالحديث، چوتھا ایڈیشن، 1383.

22۔ نجم، آيت 39.

23۔ هود، آيت 61.

24۔ وسائل الشيعه، ج 6، ص 36.

25۔ ایضا.

26۔ ایضاً،ص 37.

27۔ ایضاً، ص 11.

28۔ ایضا.

29۔ ایضاً، ص 22.

30۔ ایضاً، ص 23.

31۔ "وَ لِلَّهِ الْعِزَّه وَ لِرَسُولِهِ وَ لِلْمُؤْمِنين‏"، منافقون، آيه 8؛ "وَ لَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكافِرينَ عَلَى الْمُؤْمِنينَ سَبيلا"،نساء، آيه 141.

32۔ جرجي زيدان، تاريخ تمدن اسلام، ترجمه علي جواهرالكلام، ص 587 و 639، تهران، اميركبير، دسواں ایڈیشن، 1382.

33۔ گوستالوبون، تاريخ تمدن اسلام و عرب، ترجمه محمدتقي فخر گيلاني، ص 708 و 710، تهران، دنياي كتاب، دوسرا ایڈیشن، 1386.

34۔ مرتضي مطهري، مجموعه آثار، ج 2، ص 31.


٠٨:٥٠ - 1392/09/23    /    شماره : ٤٢٣٨٣    /    تعداد نمایش : ٣٩٠


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 

خروج




بازديد کنندگان اين صفحه: 11906 بازديدکنندگان امروز: 80 کل بازديدکنندگان: 33329 زمان بارگذاری صفحه: 0/6719
جملہ حقوق سائٹ مجتمع کیلئے محفوظ ہیں.