تلاش
دقیق تر تلاش
English | فارسی | Urdu | Az | العربی
صفحه اصلی > معاونت ها و بخش های مجتمع > شعبہ تحقیقات > تحقیقات پرتو 

دینی سوالات بهجیں

سوالات اور جوابات کے عناوین



  چاپ        ارسال به دوست

دینی سوالوں کے جوابات(48)

ہم ایسے خدا کی عبادت نہیں کرتے جس کو نہیں دیکھتے

سوال: "ہم ایسے خدا کی عبادت نہیں کرتے جس کو نہیں دیکھتے" اس کلام سے امام علی کی کیا مراد ہے؟

جواب:

ابن ابی الحدید  جیسے  بہت سے دانشوروں  نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ توحید و معارفِ الہی امام علی کی خلّاقیتیں ہیں؛ پیغمبر اکرم کے اصحاب میں سے امام علی کی طرح  توحید اور عظیم معارفِ الہی کے بارے میں کسی کا بھی بیان نہیں ملتا بلکہ صحابہ میں سے کوئی ایک بھی   امام علی جیسے  عظیم معارف کا تصوّر بھی نہیں کرسکتا۔اگر وہ اہل معرفت ہوتے تو کچھ بیان کرتے لیکن ان سے کچھ بھی نقل نہیں ہوا ہے۔[1]

زعلب یمانی کے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں امام علی(ع) نہج البلاغہ کے خطبہ ۱۷۹ میں جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: أمااعبد ما لاراي؟ کیا میں اس کی پرستش کروں جس کومیں دیکھتا بھی نہیں؟

زعلب نے کہا: «كيف تراه» اس کے جواب میں امام خدا کے دیدار کی ماہیت اور واقعیت کے بارے میں گفتگو فرماتے ہیں۔ امام کے خطبے  کی شرح سے پہلے ضروری ہے کہ ایک مختصر مقدّمہ بیان کیا جائے۔

معرفتِ بشر کے تین منابع ہیں:

۱۔ حواس سے حاصل ہونے والی معرفت

۲۔ عقل سے حاصل ہونے والی معرفت

۳۔  شہود سے حاصل ہونے والی معرفت

حسّی معرفت امور محسوسہ پر منحصر ہے اور محسوسات سے جڑی چیزوں کی اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے معرفت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے یہ جملہ معروف ہو گیا ہے کہ «من فقد حسا فقد علما»جو حس کھو بیٹھا اس کا علم بھی کھو گیا۔

عقلی اور غیر محسوس امور کے ساتھ مربوط معرفتِ عقلی کا درجہ معرفتِ حسّی سے بالا تر ہے ۔  اس معرفت کا طریقہ استدلال پر مبنی ہے اور بہت سے حقائق اسی کے ذریعے قابلِ شناخت ہوتے ہیں۔

معرفتِ شہودی:

معرفت کی یہ قسم  معلوم کو بلا واسطہ اور مستقیماً درک کرنے سے حاصل ہوتی ہے اور اہمیّت کے لحاظ سے معرفتِ عقلی سے بالا تر ہوتی ہے؛ کیونکہ معرفتِ شہودی میں خطا کا امکان نہیں پایا جاتا ۔ معرفتِ حسّی اور عقلی میں عالِم اور معلوم میں واسطہ ہوتا ہے لیکن معرفتِ شہودی  اور حضوری میں عالِم و معلوم میں کسی قسم کا واسطہ نہیں پایا جاتا بلکہ عالِم،  معلوم  کو بلاواسطہ درک کر لیتا ہے۔ حسّی اور عقلی معرفت میں خارجی اشیاء کو درک کرنے کے لیے  صورت ذہنی واسطہ قرار پاتی ہے،یہاں اس بات کا امکان موجود ہے کہ صورتِ ذہنی کی خارجی اشیاء کے ساتھ تطبیق و انطباق میں غلطی ہو جائے؛ لیکن  علم حضوری و شہودی میں معلوم براہِ راست عالِم کے حضور میں ہوتا ہے، اس لیے خطا کا امکان نہیں ہوتا۔[۲]

دیدار سے امام علی(ع) کے مدِّ نظر کونسی معرفت ہے؟

جواب:

معرفت حق تعالیٰ کے سلسلے میں نہج البلاغہ کے اس خطبے اور بقیہ تمام خطبات میں یہ واضح بیان ہوا ہے کہ امام علی (ع) کا مقصود معرفتِ حسّی نہیں ہو سکتی؛ کیونکہ معرفتِ حسّی ، محسوسات اور مادیات میں منحصر ہے اور خدامحسوس ہے نہ مادی۔

آیا معرفتِ عقلی مراد ہے؟

اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ امام(ع) کی نظر میں خداوند متعال  کی نسبت معرفتِ عقلی کی دو اقسام  ناقابلِ قبول ہیں۔

الف) خدا کی ذات اور حقیقت   پر عقلی معرفت کا دعویٰ؛

ب) خدا کی ذات و صفات پر عقلی اور احاطہ کرنے والی معرفت کا دعویٰ

پہلے مورد کے سلسلے میں امام(ع) فرماتے ہیں: «فلسنا نعلم كنه عظمتك الا انا نعلم انك حي قيوم لاتاخذك سنه و لانوم لم ينته اليك نظر و لم يدركك بصر»[۳] "ہم تمہاری عظیم حقیقت کو نہیں پاسکتے لیکن یہ جانتے ہیں کہ  تو حّی و قیّوم ہے، تجھے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ عقل میں تاب نہیں کہ وہ تجھ تک رسائی حاصل کر سکے اور آنکھ میں سکت نہیں کہ تیرا دیدار کر سکے۔"

دوسرے مورد کی نسبت فرماتے ہیں: «هيهات، إِنَّ من يعجز عن صفات ذى الهيئه والادوات فهو عن صفات خالقه أعجز . ومن تناوله بحدود المخلوقين أبعد»[۴]" شکل و اندام کی توصیف سے عاری تیری صفات کو بیان نہیں کرسکتا، اس کی ذات اس سے کہیں دور ہے کہ اس کی معرفت کو  ان صفات و تعریفوں کے ساتھ حاصل کیا جائے جو لوگوں نے اس کے لیے قرار دی ہیں۔"

خطبہ اشباح کہ جسے سید رضی نے امیر المومنین(ع) کے انتہائی  بلند درجہ اور پر مغز خطبات میں شمار کیا ہے، اس خطبے میں  ذات و صفات الہی کے ذریعے  حقیقی معرفت کی یکجا نفی کی گئی ہے۔ اس خطبے میں قابل  غور بات یہ ہے کہ  امام(ع) نے حقیقی (بالكنه) معرفت کی انسان کی تمام تر ادراکی قوتوں (وہم، فکر، عقل و قلب) کی نفی کی ہے۔  یہ حکم انسانوں کے کسی خاص گروہ کے لیے مختص نہیں بلکہ  ذات و صفات الہی کی حقیقی معرفت بشر کی توان سے باہر ہے۔[۵]

شیخ سعدی فرماتے  ہیں:

جہان منفق با الاہيتش     فرومانده از كنه و ماہيتش

بشر ماورای حلالش نيافت   بصر منتہای جمالش نيافت

نه بر اوج ذاتش پرد مرغ وہم نه در ذيل وصفش رسد دست فہم

نه ادارك در كنه ذاتش رسد    نه فكرت به غور صفاتش رسد(6)

خدا کی ذات و صفات کی حقیقی معرفت بشر کے لیے اس لیے بھی قابل ِ دسترسی نہیں کہ  ذاتِ الہی نیز صفات الہی جو کمال کے  برترین معانی کو شامل ہے، انسان کی عقل و قلب سے ماوراء ہیں۔

 خدا کی ذات و صفات کو احاطہ کرنے والی عقلی و قلبی معرفت نا ممکن ہے:

امام علی(ع) ایسی عقلی اور شہودی  معرفت کو رد کرتے ہیں جو خدا پر احاطہ کرنے والی معرفت کی مدّعی ہو۔ «لا تقع الاوهام له على صفه ولا تقعد القلوب منه على كيفيه ولا تناله التجزئه والتبعيض. ولا تحيط به الابصار والقلوب»[۷]

«عظم عن أن تثبت ربوبيته بإحاطه قلب أو بصر»[۸] افکار اوراوہام  اس کے لیے کوئی صفت بیان نہیں کرسکتے، عقلیں اس کی کیفیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اس کے لیے کوئی جز تصوّر کیا جا سکتا ہے نہ وہ تجزیہ پذیر ہے۔آنکھیں اور قلوب اسے سمجھ نہیں سکتے۔ خدا اس سے کہیں بلند ہے کہ اسے دل یا آنکھ کے ساتھ دیکھا یا سمجھا جا سکے۔

مذکورہ بالا جملات میں ایسی معرفت کی نفی کی گئی ہے جو اس کا احاطہ کرسکے۔ لیکن امام(ع) کے کلام میں احاطہ کرنے والی عقلی معرفت کا بھی انکار دیکھا جا سکتا ہے:«ان الله تبارك و تعالي اجل و اعظم من ان يحد بيد... او تبلغه الاوهام او تحيط بصفته العقول»[۹] خدا وند متعال اس سے کہیں بزرگ و برتر ہے کہ اس کو ہاتھ سے محدود کیا جائے ۔۔۔۔ یا اس تک قوت وہم کے ساتھ دسترسی  حاصل کی جائے یا  اس کی صفت پر احاطہ کیا جائے۔

امام علی نے مکمل احاطہ کرنے والی عقلی و قلبی معرفت کا انکار اس لیے کیا کہ اس قسم کی معرفت کا لازمہ خداوند عالم کا لامحدود ہونا ہے۔ درحالیکہ اس قسم کی معرفت نہ عقلِ بشر کی دسترس میں ہے اور نہ ہی عقل ملائکہ کے لیے میسّر؛ کیونکہ محدود کے لیے محال ہے کہ وہ نامحدود پر احاطہ پیدا کرے۔

ایسے میں وہ کون سی قلبی اور عقلی معرفت ہے جس کو امام(ع) کی تائید حاصل ہے؟ امام(ع) کی منطق میں  خدا کی شناخت کے لیے حسّی معرفت ناکافی ہے؛ اس لیے کہ خداوند عالم محسوس اور مادی نہیں جو حسّی معرفت سے درک ہو سکے؛ عقلی و شہودی معرفت جو بشر اور تمام مخلوقات کی توان سے باہر ہے وہ بھی قابل قبول نہیں ہے۔البتہمعرفت خدا کے لیےعقل و استدلال کا وہ طریقہ مقبول ہے جو معرفت کے مسلّمہ قواعد کے ساتھ سازگار بھی ہو اور خداوند متعال کی تنزیہ کے ساتھ مناسب  بھی ہو۔ امام(ع) کی نظر میں شناخت خدا  کا طریقہ افعالِ الہی کو بیان کرنا ہے۔

افعالِ خدا کے بیان کے ذریعے خدا معرفت

امام (ع) نے جاثلیق کے جواب میں فرمایا: «تعالى الملك الجبار أن يوصف بمقدار، أو تدركه الحواس، أو يقاس بالناس، والطريق إلى معرفته صنائعه الباهره للعقول، الداله ذوي الاعتبار بما هو عنده مشهود ومعقول»[۱۰]«وہ حاکم بادشاہ اس سے کہیں بلند و برتر ہے کہ اس کی مقدار کے ساتھ توصیف کی جائے، یاحواس کے ساتھ اس کو درک کیا جاسکے یالوگوں کے ساتھ اس کا مقائسہ کیا جائے؛ اس کی شناخت کا ذریعہ وہ مصنوعات و مخلوقات ہیں جنہوں نے عقلوں کو متحیّر کردیا ہے اور صاحبان عقل و خِرد کے پاس جو مشہود و معقول ہے اس کے ذریعے دلالت کرتی ہیں»۔

معرفت خداوند متعال کے سلسلے میں امام(ع) کی منطق عقل ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی مخلوقات میں تفکّر کیا جائے تا کہ ان مخلوقات میں نہفتہ رعنائیوں کے ساتھ خدا کی عظمت کو درک کیا جاسکے اور یہی منطق قرآن کی بھی ہے:«أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ وَإِلَى السَّمَاء كَيْفَ رُفِعَتْ وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ».[۱1]

امام(ع) خطبہ ۱۸۴ میں فرماتے ہیں: "اگر لوگ خدا کی قدرت اور اسکی عظیم نعمات میں غور کرتے تو راہِ راست کی ہدایت پا جاتے"۔ اسی خطبے میں امام چیونٹی کی خلقت اورتحیّرات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: " اگر تم اپنی عقل سے کام لو تو واضح اور قاطع دلائل تم سے یہ کہیں گے کہ چھوٹی سی چیونٹی کا خالق وہی ہے جس نے کھجور جیسے بڑے درخت کو پیدا کیا ہے، بے شک خدا نے ہر چیز کی آفرینش میں دقّت سے کام لیا ہے۔"

بنابریں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام علی(ع) کی نظر میں مطلوب معرفت وہی عقلی معرفت ہے جو خداوند متعال کے افعال میں تفکّر اور تدبّر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ آیا حقائقِ ایمان سے پیدا ہونے والے قلبی ادراک سے امام(ع) کی مراد یہی عقلی معرفت ہے؟

امام(ع) کی نگاہ میں خدا کی صحیح اور مطلوب معرفت، شہودی معرفت ہے۔ وہ شہودی معرفت کہ جس میں انسان کے لیے حقیقت بغیر کسی واسطے کے کشف ہو جاتی ہے۔

امام(ع) دعائے نوف بکالی میں خدا سے حقیقتِ ایمان کی بنیاد پرمعرفت کی دعا کرتے ہیں:«فأسئلك باسمك الذي ظهرت به لخاصه أوليائك، فوحدوك وعرفوك بعبدوك بحقيقتك أن تعرفني نفسك لاقر لك بربوبيتك على حقيقه الايمان بك»[۱۲]

"خدایا میں تم کو اس نام سے پکار رہا ہوں جو تم نے اپنے خاص چاہنے والوں کے لیے آشکار کیا ہے جس سے  انہوں نے تجھے ایک جانا اور تیری معرفت حاصل کی؛ پس اس وقت انہوں نے حقیقت میں تیری عبادت کی، ہمیں بھی اپنی معرفت کی رغبت دلا تا کہ ہم حقیقتِ ایمان کی بنیاد پر تیری ربوبیت کا اقرار کرسکیں۔"

 

حقیقتِ ایمان کیا ہے؟

امام(ع) نے کمیل کے جواب میں فرمایا:«الحقيقه كشف سبحان الجمال من غير اشاره»حقیقت یہ ہے کہ انسان پر قربی و الہی حقائق کشف ہو جائیں بغیر اس کے کہ کسی قسم کا  اشارہ ہو یااس کی حد بندی ہو۔ کمیل نے مزید وضاحت طلب کی تو امام(ع) نے فرمایا"«نفي الموهوم مع صحه المعلوم»یعنی وہ معرفت جو سوچ میں نہیں آتی۔ خدا کی صحیح اور پاک صورت میں معرفت صحیح طریقے سے ہی میسّر ہوتی ہے۔"[۱۳]

امام(ع)  نے خطبہ اشباح میں جہاں فرشتوں کی معنوی حالت بیان فرمائے ہیں وہاںملائکہ کی قلبی اور شہودی معرفت کے  بارے میں فرمایا: «ووصلت حقائق الايمان بينهم وبين معرفته. وقطعهم الايقان به إلى الوله إليه ولم تجاوز رغباتهم ما عنده إلى ما عند غيره. قد ذاقوا حلاوه معرفته وشربوا بالكأس الرويه من محبته»"حقیقت ایمان نے ان کے اور معرفت کے درمیان گرہ لگائی، یقین کی نعمت نے ان کو حق کا شیدا بنا دیا اور غیر خدا سے کسی قسم کی رغبت نہیں رکھی؛ انہوں نے معرفت خدا کی مٹھاس چکھی ہے اور اس کی محبت کے جام سے سیراب ہوئے ہیں"۔

اس خطبے میں حقیقتِ ایمان کی خصوصیت بیان ہوئی ہے؛ اور وہ صاحب یقین ہونا ہے کہ جس سے دل تمام وسوسوں سے محفوظ ہوتا اور ایمان سے سرشار ہوکرجذبہ حق کو پا لیتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان غیر خدا سے کسی قسم کی رغبت نہیں رکھتا۔ یہ وہی ما سوا اللہ سے انقطاع اور اتّصال باللہ ہے؛ یہ وہی قلبی سکون ہے جو اولیائے خدا کو حاصل ہوتا ہے۔ لہذا حقائقِ ایمان سے حاصل ہونی والی معرفت ہی شہودی معرفت ہے کہ جو قرآن میں حضرت ابراہیم(ع) کے سلسلے میں بیان ہوئی ہے؛ اور ہم اس طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمینوں کے عجائبات دکھانے لگے تا کہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہو جائیں[۱۴]

بعض علماء نے اس خطبے میں حقائق ِ ایمان کو معارفِ حقّہ سے تفسیر کی ہے۔[۱۵]

لیکن انسان کے سکونِ قلب کے باعث ان معارفِ حقّہ پر یقین کا لازمہ حقائق ِ ایمانی کا شہود ہے جو انبیائے الہی اور خدا کے خاص اولیاء کے ساتھ مخصوص ہے۔ لہذا شہود یعنی حس سے ماورا عالم تک کی رسائی اور چشمِ دل سے اس عالم کے حقائق کا مشاہدہ۔[۱۶]

 

نتیجہ:

دیدار خدا سے امام(ع)  کی مرادجیسا کہ خطبہ ۱۷۹ میں  خود حضرت(ع) نے فرمایا: «لا تراه العيون بمشاهده العيان، ولكن تدركه القلوب بحقائق الايمان قريب من الاشياء غير ملامس بعيد منها غير مباين متكلم لا برويه، مريد لا بهمه...»آنکھیں اس کو آشکار کبھی بھی نہیں دیکھ سکتیں، لیکن با ایمان دل اس کو پا سکتے ہیں، خدا سب چیزوں سے نزدیک ہے لیکن ایسا نہیں کہ اشیاء اس سے جڑی ہوں؛ وہ ہر چیز سے دور ہے لیکن وہ کسی سے بیگانہ نہیں؛ متکلم ہے لیکن فکر سے نہیں، مرید ہے لیکن کسی آرزو اور خواہش سے نہیں۔۔۔؛

یہ مشاہدہ قلبی ہے؛ امام (ع) کے قلبی و شہودی ادراک کو  رویت (مشاہدے)  سے تعبیر کرنے کا راز یہ ہے کہ  حسّی مشاہدے میں اشیاء شفّاف، روشن اور تمام جزئیات کے ساتھ دکھتی ہیں، شہودی معرفت میں بھی عالمِ غیب   پاکیزہ قلوب کو حسی مشاہدے سے کہیں زیادہ شفّافیت کے ساتھ نظر آتا ہے؛ جیسا کہ انسان کسی حادثے کو دیکھ کر اس کی واقعیت کا یقین حاصل کرلیتا ہے، دل کی نظروں کے لیے عالمِ ملکوت کا کشف ہونا  زیادہ یقین اور ایمان کا باعث ہوتا ہے؛ جیسا کہ سورہ انعام ۷۵ میں حضرت ابراہیم(ع) کے لیے آسمان و زمین کے ملکوت کے قلبی مشاہدہ کا اصل ہدف یقین راسخ بیان ہوا ہے۔

قلبی شہود چونکہ ایک باطنی اور اندرونی امر ہے اس لیے اس کے کچھ معیار قائم ہوئے ہیں کہ جن کے ذریعے حق کو جھوٹے دعووں سے جدا کیا جاسکتا ہے۔ بعض بزرگوں نے اس کے تین معیار ذکر کیے ہیں:

الف)  شہوداعلیٰ درجے کے  ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ ہوتا ہے، پس  اس خصوصیت سے عاری افراد اگر یہ دعویٰ کریں تو ان کا یہ دعویٰ قابل قبول نہ ہوگا۔

ب) شہود کا مواد کتاب و سنّت کی تعلیمات کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہئے۔

ج) شہود کا موادعقل اور عقلی قوانین کے مخالف نہیں ہونا چاہیئے۔[۱۷]

 

مآخذ

ابن ابي‌الحديد، عبدالحميد بن ہنيه الله، شرح نہج البلاغه، ج 6، 1379ق، موسسه مطبوعاتی اسماعيليان، قم.

بحرانی، كمال‌الدين ميثم بن علی بن ميثم، شرح نہج‌البلاغه، ج 5، بنياد پژوہشگاه اسلامی، مشہد، 1385.

جعفری، محمدتقی، ترجمه و تفسير نہج‌البلاغه، ج 27، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1386، تہران.

 

مزید مطالعہ کے لیے رجوع کریں:

1. سبحانی، محمدتقی، دانشنامه امام علی، ج 2، مبدا و معاد، مقاله اسما و صفات خداوند، پژوہشگاه فرہنگ و انديشه اسلامی، 1382، تہران.

 

2. الصدوق، ابی‌جعفر محمد بن الحسن بابويه القمی، التوحيد، موسسه اعلمی للمطبوعات، بيروت، بی‌تا.

3. الطوسی، ابی‌جعفر محمد بن الحسين بن علی، الامالی، دارالكتب الاسلاميه، تہران، 1381، تہران.

4. غرويان، محسن و...، آموزش عقايد، ج 1، موسسه دارالعلم، 1375، قم.

5. مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، ج 95، داراحياء التراث العربی، بيروت، 1403ق.

6. محمدی ری‌شهری، موسوعه الامام علی بن ابی‌طالب(ع)، ج 10، دارالحديث، 1421ق، قم.

7. مكارم شيرازی، ناصر، پيام امام اميرالمومنين (شرح نہج‌البلاغه) ج 6، دارالكتب الاسلاميه، تہران، 1385.

8. مكارم شيرازی، ناصر، پيام قرآن، ج 1، انتشارات نسل جوان، 1373، قم.

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]. ابن‌ ابي‌الحديد، ج 6، ص 346، 1379ق.

[2]. رجوع کریں: محسن غرويان ..... ج 1، ص 26 – 27، 1375، قم.

[3]. نہج‌البلاغه، خطبه 160.

[4]. نہج‌البلاغه، خطبه 162.

[5]. سبحانی، محمدتقی، ج 2، ص 98، 1382.

[6]. كليات سعدی، ص 203.

[7]. نہج‌البلاغه، خطبه 185.

[8]. نہج‌البلاغه، نامه 31.

[9]. علی بن بابويه القمی، الشيخ الصدوق، ص 75، بی‌تا.

[10]. الامالی، ص 344، 1380.

[11]. سوره غاشيه / 12 – 16.

[12]. مجلسی، محمدباقر، ج 95، ص 96، ح 12، 1403ق.

[13]. سبحانی، محمدتقی، ایضاً/119.

[14]. انعام / 75.

[15]. مكارم شيرازی، ج 6، ص 637، 1385.

[16]. مكارم شيرازی، ج 1، ص 253، 1373.

[17]. مكارم شيرازی، ج 1، ص 293 - 294)،


٠٨:٤٠ - 1392/08/19    /    شماره : ٤٠٦٤٦    /    تعداد نمایش : ٢٦٩


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 

خروج




بازديد کنندگان اين صفحه: 11905 بازديدکنندگان امروز: 79 کل بازديدکنندگان: 33328 زمان بارگذاری صفحه: 0/6406
جملہ حقوق سائٹ مجتمع کیلئے محفوظ ہیں.