تلاش
دقیق تر تلاش
English | فارسی | Urdu | Az | العربی
صفحه اصلی > معاونت ها و بخش های مجتمع > شعبہ تحقیقات > تحقیقات پرتو 

دینی سوالات بهجیں

سوالات اور جوابات کے عناوین



  چاپ        ارسال به دوست

دینی سوالوں کے جوابات(47)

قرآن میں خدا کے اسما اور صفات کا مذکر ہونا اور "من" و "ما" کی ضمائر کا استعمال

سوال:

قرآن میں خدا  کے اسما اور صفات مذکر کیوں استعمال ہوئے ہیں اور خدا نے اپنے لیے مذکر کی ضمائر کیوں استعمال کی ہیں؟

جواب:

اولاً،  اس نکتے کہ طرف توجہ ضروری ہے کہ ادبیات میں  مذکر و مونث کی علامات کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں ہوتیں کہ جو اپنے صاحب کی کسی قدر و منزلت کو ثابت کریں بلکہ  اہل زبان  ان کو عرف کے حوالے سے استعمال کرتے ہیں۔

ثانیاً، خداوند عالم نے قرآن کریم میں اپنے لیے مذکر ضمائر کا استعمال کیوں کیا ہے تو اس کی علّت یہ ہے کہ قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا ہے اور عربی قواعد کے تابع ہے اور خدا کے لیے مذکر کی ضمیر کا استعمال عربی زبان کے قواعد کے مطابق ہے۔ عربی زبان دینِ اسلام کی ایجاد نہیں، حتّیٰ اسلام سے پہلے بہت سے مشرک اور ملحد عرب تھے اور بہت سی لغات میں یہ بات موجود ہے کہ  سب سے پہلے جس نے عربی زبان میں کلام کیا اور عربی رسم الخط ایجاد کیا وہ یعرب بن قحطان تھا جس کا نسب  چند واسطوں سے حضرت نوح (ع)سے جا ملتا ہے۔[1] فارسی زبان کے برخلاف عربی میں مذکر اور مونث دو قسم کی ضمیریں استعمال ہوتی ہیں۔

دنیا  چار قسم کے امور سے خالی نہیں۔

وہ امور جو خواتین سے مخصوص ہیں۔

وہ امور جو مردوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔

وہ امور جو مرد و عورت دونوں میں مشترک پائے جاتے ہیں۔[۲]

وہ امور جو جنسیت سے ماوراء ہیں۔

عربی ادبیات اور زبان میں وہ امور جو خواتین سے مخصوص ہیں وہ مونث ضمائر و کلمات اور مردوں سے مخصوص امور مذکر الفاظ اور ضمیروں کے ساتھ ذکر ہوتے ہیں۔ نیز وہ امور جو عورتوں اور مردوں میں مشترک ہوتے ہیں ان میں مذکر ضمائر  اور کلمات کا استعمال  کیا جاتا ہے۔[۳] اور وہ امور جن میں جنسیت موردِ توجہ نہ ہو جیسے خدا اور ملائکہ تو ان کےلیے  مجازاً مذکر الفاظ اور  ضمائر سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ یعنی تین حالتوں میں مذکر الفاظ اور صرف ایک حالت میں مونث الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔

البتّہ کبھی کبھار فقط لفظ موردِ توجہ ہوتا ہے اور اس وجہ سے  مونث یا مذکر لفظ لایا جاتا ہے اگرچہ وہ جنس اور واقع کے لحاظ سے لفظ سے متفاوت ہی کیوں نہ ہوں۔ اصطلاح میں اسے مجازی مذکر یا مونث کہا جاتا ہے۔

مثلاً شمس(سورج) کے لیے مونث اور قمر(چاند) کے لیے مذکر کی ضمیر استعمال ہوتی ہے۔ جیسا کہ بعض آیات میں اسی طرح سے استعمال کیا گیا ہے:وَالشَّمْس ِوَضُحَاهَا، وَالْقَمَرِ إِذَاتَلاهَا[۴]۔۔۔إِذَاالشَّمْسُ كُوِّرَتْ[۵] جیسا کہ ان آیات میں ہم دیکھتے ہیں  کہ قمر کی ضمیر مذکر اور شمس کی مونث آئی ہے جبکہ قمر اور شمس حقیقی مذکر اور مونث نہیں ہیں، بلکہ مجازی مونث اور مذکر ہیں۔[۶]

ظاہر سی بات ہے کہ کسی بھی زبان میں پیش ہونے والے  مکتوب یا ملفوظ کلام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس زبان کے قواعد و قوانین کے مطابق ہو تا کہ اس بات کو مخاطب یا مخاطبین سمجھ سکیں۔ اور اگر اس قوم میں رائج قواعد اور ادبیات کے برخلاف ہو گی تو کوئی بھی ان مفاہیم سے آگاہ نہیں ہو پائے گا کیونکہ بات کرنے والے کے مقصود و منشاء کے خلاف ہے۔

قرآن کریم بھی چونکہ عربی زبان میں نازل ہوا ہے، طبیعی طور پر اسے اس زبان کے قواعد اور اصولوں کے مطابق ہونا چاہئیے اور جیسا کہ بیان کیا گیا کہ فوق الذکر تین حالتوں میں عربی قواعد کے مطابق مذکر ضمائر اور الفاظ اور ایک حالت میں مونث کلمات  سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

خداوند متعال چونکہ جنسیت سے ما فوق ہے، نہ ہی مونث حقیقی ہے اور نہ مذکر حقیقی تو عربی زبان کے قواعد کی بنیاد پرخدا کی ذات کےلیے مذکر مجازی کی صورت میں ضمائر ، اسماء اور صفات سے استفادہ کیا جانا چاہیئے۔

سوال:

خدا نے بعض آیات میں اپنے لیے جمع متکلّم"ہم"  اور بعض میں واحد متکلّم"میں" کی ضمیر سے کیوں استفادہ کیا ہے؟

جواب:

خدا ایک ہے اور قاعدہ اوّلیہ کی بنیاد پر ضروری تھا کہ جب بھی اپنے افعال کی خبر دے تو مفرد کلمے  یا ضمیر واحد متکلّم سے استفادہ کرتا۔ جیسا کہ بارہا قرآن میں اس طریقے سے تعبیرات استعمال ہوئی ہیں۔ لیکن عربی زبان  اور گاہے عربی زبان کے علاوہ بھی متعدد دلائل کی بنا پر متکلم اور بات کرنے والا مفردکی بجائے جمع کی ضمیر استعمال کرتا ہے جن میں سے بعض دلائل یہ ہیں:

۱۔ بلا شک و تردید خدا صاحبِ عظمت و رفعت ہے کہ جس کی جانب متعدد قرآنی آیات اور معصومین (ع) کی روایات میں اشارہ کیا گیا ہے، خدا نے اپنی اس عظمت کو بندوں تک پہنچانے کے لیے کبھی جمع اور متکلم مع الغیر کی ضمیر کا استعمال کیا ہے، کیونکہ جمع کی ضمیر فاعل کی عظمت اور بزرگی کو زیادہ اور بہتر طریقے سے پہنچاتی ہے۔[۷]

۲۔ اس میں بھی شک نہیں کہ خدا کے افعال اس سے منسوب ہونے کے لحاظ سے  اہمّیت اور عظمت کے حامل ہیں، اس اہمیّت اور عظمت کو واضح کرنے کے لیے خدا  نے بعض اوقات جمع یا متکلّم مع الغیر کی ضمیر کا استعمال کیا ہے۔[۸]

۳۔ کسی کام کے انجام دینے کی وجوہات اور اسباب بتانے اور اس کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہے، خداوند عالم چونکہ  اس کائنات میں اپنے اکثر کام اسباب و علل  کے تحت انجام دیتا ہے لہذا اس قسم کے موارد میں جمع کی صورت میں ضمائر استعمال ہوئی ہیں۔ [۹]

۴۔  اس لیے کہ خدا کی ایسی صفات ہیں جو اس کے عین ذات ہیں [۱۰] جیسے قدرت، علم، حیات و۔۔۔،  اور اپنی تمام صفات کے ساتھ اپنے افعال کو انجام دیتا ہے، اس لیےجمع یا متکلّم مع الغیر کی ضمیرورں کو استعمال کیا ہے۔[1۱]

مزید مطالعہ کے لیے ان کتابوں کی طرف رجوع کریں:

اطيب البيان فی تفسيرالقرآن ج11،سيدعبدالحسين طيب،انتشارات اسلام،تہران، 1378 هجری شمسی   دوسرا ایڈیشن.

 

الفرقان فی تفسيرالقرآن،ج30،محمدصادقی تہرانی،انتشارات فرهنگ اسلامی،قم، 1365 ہجری شمسی،دوسرا ایڈیشن.

 

تفسيرنمونه ج17،ناصرمكارم شيرازی،انتشاراتدارالكتب الاسلاميه،تہران، 1374،اشاعت اول.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]. مجمع البحرين ج2 ص119/ لغت نامه دہخداذيلم ادهم ذكور.

[2]. یہ اشکال اسلام کی ابتدا سے ہی سامنے آچکا تھا  لہذا قرآن نے عربی میں رائج محاورات کہ جو مردوں اور عورتوں میں مشترک ہوتے تھے کے برخلاف مذکر کلمات اور ضمیروں کا استعمال کیا۔سوره احزاب آیت 35میں ، مذکر و مونث دونوں الفاظ سے مکرر طور پر استفادہ کیا ہے۔ مفسرین نے اس کی توضیح میں لکھا ہے:

«اسماءبنت عمیس»نے پیغمبراسلام(ص) سےعرض کیا: قرآن میں  جمع مذکر کی صورت میں ذکر ہونے والے فضائل خواتین کے سلسلے میں کیوں نہیں آئےجبکہ اس آیت کے فوراً بعد نازل ہونے والی آیت میں  بڑی تاکید اور اہتمام کے ساتھ تمام اخلاقی صفات اور فضائل کو  مذکر اور مونث دونوں صورتوں میں بیان  کیا گیا ہے،(تفسيرنمونهج17 ص308)  تاکہ اس اعتراض کے بے بنیاد ہونے کو بیان کیا جاتا اور اعلان کیا جاتا کہ قرآن کی آیات سے اس طرح کا مطلب لینا غلط ہے، کیونکہ ادبیات عرب کے تقاضے کے مطابق مرد و خواتین میں مشترک امور میں  مردانہ اور مذکر الفاظ اور ضمائر سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

اسی نکتے کی بنیاد پر بعض مفسّرین نے لکھا ہے: یہ آیت ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم میں مذکر صیغہ کے ساتھ آنے والے مطالب مردوں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ مرد و خواتین دونوں کو شامل ہیں. (تفسيرہدايتج10 ص267)

[3]. تفسیرنمونه،ج 17،ص 308.

[4]. سوره شمس آيه1-2.

[5]. سوره تكويرآيه1.

[6].حقیقی اور مجازی مذکر و مونث کی تعریف ادبیات کی کتب منجملہ ہدایہ اور انموذج میں ذکر ہوئی ہیں.

[7]. جرجانی،آيات الاحكام،ج2 ص390 ذيل آيه31 سوره احزاب.

[8]. تفسيراحسن الحديث ج8 ص156/ الميزان،ج 16ص145.

[9]. اطيب البيان في تفسيرالقرآن ج11 ص24.

[10].  صفات الہی کی تقسيم بندی

خدا کی صفات میں سے بعض صفات ایسی ہیں جو زائد بر ذات نہیں بلکہ اس کی عین ذات ہیں. جیسے حیات، قدرت اور علم، یہ ذاتی صفات ہیں اور کچھ صفات ایسی ہیں کہ جن کا متحقق ہونا اس بات کا محتاج ہے کہ ان صفات کے تحقق سے پہلے اس ذات کا محقق ہونا فرض کیا جائے، جیسے خالق و رازق ہونا کہ جو اس کی صفاتِ فعلی ہیں، اس قسم کی صفات زائد بر ذات اور مقامِ فعل سے ماخوذ ہیں۔

اسی طرح خلق، رحمت، مغفرت اور  خدا کی وہ  تمام صفات اور فعلی اسماء جن کا خدا پر اطلاق ہوتا ہے اور ان اسماء کے معانی سے متلبّس ہوئے بغیر خدا  کو ان اسماء سے پکارا جاتا ہے،  جیسا کہ  حیات، قدرت اور تمام ذاتی صفات کے ساتھ متّصف ہوتا ہے کہ اگر خدا ان  کے ساتھ حقیقتاً متلبس اور متصف ہو تو ضروری ہے کہ یہ خدا کی ذاتی صفات  شمار ہوں نہ کہ خارج از ذات۔پس اس لحاظ سے بھی خدا کی صفات کو دو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے : ایک صفات ذاتیہ اور دوسرے صفات فعلیہ۔

خدا کی صفات کی ایک اور تقسیم بھی ہے وہ  یہ کہ خدا کی بعض صفات ثبوتی معنیٰ کا فائدہ دیتی ہیں جیسے علم و حیات۔ یہ وہ صفات ہیں جو کمال کے معنیٰ دیتی ہیں اور بعض دوسری صفات سلبی معنیٰ میں ہوتی ہیں؛ جیسے سبّوح، قدّوس اور وہ تمام صفات جو خدا کو نقائص سے منزّہ کرتی ہیں۔ اس لحاظ سے خدا کی صفات کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: ایک صفاتِ ثبوتیہ اور دوسری صفاتِ سلبیہ۔

خدا کی صفات کی مزید تقسیمات بھی موجود ہیں جو نفسی اور اضافی میں تقسیم ہوتی ہیں۔ وہ صفت کہ جس کا معنیٰ ذات سے خارج کسی قسم کی اضافت کا نہ ہونا ہے، ایسی صفت کو صفت ِ نفسی کہتے ہیں جیسے حیات۔ اور وہ قسم جوخارج کی طرف مضاف ہو، صفتِ اضافی کہلاتی ہے۔ اس دوسری قسم میں پھر دو اقسام ہیں؛ بعض صفات نفسی ہیں اور خارج کی طرف مضاف ہوتی ہیں، ایسی صفات کو صفات نفسی ذات الاضافہ کہا جاتا ہے اور بعض دوسری صفات فقط اضافی ہیں جیسے خالقیّت اور رازقیّت۔ اس قسم کی صفات کو صفات اضافی محض کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔( سيدمهدي امين،معارف قرآن درالميزان،تبيان سايٹ سے اقتباس اور خلاصہ)

[11]. الفرقان فی تفسيرالقرآن ج30 ص376و478 ذيل تفسيرسوره قدروكوثر.


٠٨:٣٩ - 1392/08/19    /    شماره : ٤٠٦٤٥    /    تعداد نمایش : ٩٢٨


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 

خروج




بازديد کنندگان اين صفحه: 11899 بازديدکنندگان امروز: 73 کل بازديدکنندگان: 33322 زمان بارگذاری صفحه: 0/7969
جملہ حقوق سائٹ مجتمع کیلئے محفوظ ہیں.