تلاش
دقیق تر تلاش
English | فارسی | Urdu | Az | العربی
صفحه اصلی > معاونت ها و بخش های مجتمع > شعبہ تحقیقات > تحقیقات پرتو 

دینی سوالات بهجیں

سوالات اور جوابات کے عناوین



  چاپ        ارسال به دوست

دینی سوالوں کے جوابات(42)

قیام امام حسین(ع) اور آیہ تہلکہ کے مابین رابطہ

 سوال:

جب امام حسین(ع) کو اپنی اور اپنی ساتھیوں کی شہادت اور اہل بیت کی اسیری کا یقین تھا تو یہ قیام آیہ تہلکہ (ولاتلقوا بأیدیکم الی التهلکه)(1) کے ساتھ کس طرح سازگار ہوسکتا ہے؟

 

توضیح:

اس آیت کی رو سے خود کشی کرنا یا اپنے آپ کو ہلاکت میں قرار دینا حرام ہے۔ امام حسین(ع) کو بھی اپنے قیام میں شہادت کا علم تھا کہ جو اس آیت کی مصادیق میں شامل ہے اور اس کی نہی کی گئی ہے۔ لہٰذا امام حسین(ع) کا قیام کس طرح اس آیت کے ساتھ سازگار ہوسکتا ہے؟

 

اس سوال کا کئی جواب دیا جاسکتا ہے:

الف: درج ذیل مقدمات کے بعد اس سوال کا جواب واضح ہوجائیگا:

1) اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا مطلقہ صورت میں حرام نہیں ہے بلکہ کبھی کبھی کسی خاص وجہ سے جان دینا واجب ہوجاتا ہے۔ مثلاً اگر اسلام اور دینی معارف کو خطرہ لاحق ہو اور اس کی نجات جان دینے پر ہی موقوف ہو تو اس صورت میں جان دینا واجب ہے۔ لیکن اگر ہدف شرعی و عقلی نہ ہو تو اگر انسان اس کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈالے تو یہ عمل حرام ہے اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ جیسے مال کو بےوجہ خرچ کرنا کہ جو اسراف کا مصداق ہے۔

2) جان کو خطرے میں ڈالنا اس وقت حرام ہے کہ جب کوئی اہم مصلحت نہ ہو لیکن اگر کسی اہم مصلحت کا بچانا جان دینے پر موقوف ہو تو عقل اس کے جواز بلکہ اس کے لزوم  کا حکم دیتی اور اس کو حُسن شمار کرتی ہے۔

3) ہلاکت، مادہ ہلاک سے ہے جس کا مطلب نابودی ہے۔ نابودی کا حقیقی معنیٰ شیطان اور ہوائے نفس کی پیروی کرنے سے متحقق ہوتا ہے لیکن راہ خدا میں اسلام کے نفاذ اور تجدید احکام کے لیے شہید کے قربانی دینے کا مطلب نابودی نہیں ہے بلکہ جب تک بشریت روئے ارض پر موجود ہے تب تک اس کی آرزوئہں زندہ اور اس کا عمل دوسروں کے لیے مشعل راہ ہے۔

 

ان مقدمات کے پیش نظر

اولاً، اگر امام حسین(ع) کے قتل کو ہلاکت کا مصداق مان لیں تو اس زمانے کے حالات کے مطابق اس عمل پر واجب کا عنوان عارض ہوا ہے کیونکہ ایک بڑی مصلحت امام اور ان کے باوفا ساتھیوں کے خون دینے پر موقوف تھی، یعنی دین پیمبر(ص) اور اسلامی احکام کو زندہ کرنا اور اسلام کو نجات دلانا۔ لہٰذا اب چونکہ امام کا ہدف عالی اور شریعت کے مطابق ہے اس لیے عقل بھی جان کو قربان کردینے کا حکم دیتی ہے اور اسے امر مستحسن جانتی ہے۔

ثانیاً، یزید کے مقابلے میں امام حسین(ع) کا جہاد ہلاکت کا مصداق نہیں ہوسکتا کیونکہ حضرت(ع) اس جانفشانی کے ذریعے مقام "سید الشہداء" تک پہنچے ہیں اور "شہادت" و "ہلاکت" دو مختلف اور متباین مفاہیم ہیں۔ ہلاکت یعنی بےدلیل مرنا، جب کہ شہادت یعنی ہدف اور حیات جاویداں کے لیے قربانی دینا۔(2) اسی وجہ سے بعض مفسرین نے آیت کا اس طرح معنیٰ کیا ہے کہ: اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو راہ خدا میں شہادت سے کہ جو ابدی زندگی ہے، بچنے کے لیے ہلاکت میں مت ڈالو۔(3) یعنی جہاں خدا نے جہاد کو واجب قرار دیا ہے وہاں اسے چھوڑنا ہلاکت کے مترادف ہے، لیکن اگر جان دیدی تو ابدی زندگی بھی ملےگی اور ہلاکت سے نجات بھی۔ اس بنا پر جو  ظلم کے خلاف جہاد اور عدالت طلبی کی راہ میں شہادت پاتا ہے وہ ہلاکت کو انتخاب نہیں کرتا ہے، بلکہ اسے ہلاکت سے رہائی اور حیات طیبہ نصیب ہوتی ہے۔

امام حسین(ع) نے مدینے سے کربلا پہنچنے تک متعدد مقامات پر خطبات اور کلمات میں اپنے پیغام کو پہنچانے کے لیے آیات قرآنی کی تلاوت کی ہے۔ ان میں سے ایک نمونہ اس وقت کا ہے کہ جب جنوں کا ایک گروہ آپ کی خدمت میں آیا اور کہا کہ ہم اس مقدس جہاد کے لیے آمادہ ہیں اور اگر آپ اجازت دیں تو ہم جنگ سے پہلے ہی آپ کے دشمنوں کا قصہ تمام کردیں۔ تو امام(ع) نے فرمایا کہ اگر طے یہ ہو کہ غیبی اور غیر معمولی طاقت سے استفادہ کیا جائے تو ہم میں تو تم سے زیادہ قدرت اور توانائی ہے، اس کے بعد آپ(ع) نے اس آیت کی تلاوت کی:

"لِیهلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَینَةٍ وَ یحْیی‏ مَنْ حَی عَنْ بَینَةٍ"(4)۔ تاکہ ہلاک ہونے والا واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور زندہ رہنے والا واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔

امام(ع) نے اس بیان کے ذریعے انہیں سمجھایا اور بشریت کو اس سوال کا دقیق جواب دیا کہ عاشوراء، ہلاکت اور حیات کا نام ہے، اور ہلاکت و حیات دونوں ہی کو دلیل و اتمام حجت کے ذریعے ہونا چاہئے۔

امام(ع) فرمانا چاہتے ہیں کہ اس منظرنامے میں دوست و دشمن، میرے اصحاب اور یزید کے ساتھی، دونوں ہی مجھے پہچانتے ہیں۔ مگر میرا مدمقابل گروہ جو رسولخدا(ص) سے میری نسبت کو جانتا ہے، وہ قرآن و سنت کے فرامین کو نظرانداز کر رہا ہے، اس نے میری نابودی کے لیے قیام کیا ہے اگر وہ مارا جائے تو وہ «لِیهلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَینَةٍ» کا مصداق ہوگا۔ اور اس طرف جو میرے ساتھی ہیں وہ میری نسبت معرفت رکھتے ہیں اور حریم آل پیمبر(ص) کا دفاع کرنے کے لیے دشمن کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں اگر یہ مارے جائیں تو یہ "وَ یحْیی‏ مَنْ حَی عَنْ بَینَةٍ" کا مصداق بنیں گے اور حیات ابدی تک پہنچ جائیں گے، کیونکہ قرآن کریم نے شہیدوں کو جاوید اور ابدی کہا ہے: "وَلا تَقُولُوا لِمَنْ یقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللَّهِ أَمْواتٌ بَلْ أَحْیاءٌ وَلكِنْ لا تَشْعُرُون"(5)۔ اور جو لوگ راہ خدا میں مارے جاتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، مگر تم (ان کی زندگی کا) ادراک نہیں رکھتے۔

اس بنا پر حجت دونوں گروہوں پر تمام ہے۔ اسی لیے یزیدی سپاہیوں کی ابدی ہلاکت اور اصحاب حسینی کی ابدی حیات (مقام شہادت پانے کی وجہ سے)، کی اپنی واضح دلیل و حجت موجود ہے۔ لہٰذا عاشوراء کی جنگ میں کوئی بھی امام(ع) کی رکاب میں ہلاک نہیں ہوا اور اس کا خون ضائع نہیں ہوا، امام(ع) کا مرتبہ تو اس سے کہیں زیادہ بلند ہے کہ اس طرح کے شبہات ذہن میں خطور کریں۔ ہلاکت تو ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے امام زمانہ اور اپنے نبی کے بیٹے کے مدمقابل کھڑے ہوئے اور اس کے سامنے شمشیر بکف ہوگئے۔

 

ب: امام حسین(ع) اور ان کے ساتھیوں کی تحریک خدا اور اس کے رسول کے حکم سے انجام پائی ہے۔ یہ بات قیام امام کے اہداف اور پیغمبر(ص) اور خود آپ کی احادیث سے حاصل ہوتی ہے:

1۔ آیات قرآن کریم(6) اور احادیث نبوی(7) میں ظلم و فساد کے خلاف جہاد کو ضروری اور واجب بتایا گیا ہے۔ کیونکہ اسلام کی بقا، دین کی زندگی، ایمان کی ترقی، امن کی برپائی اور نظام الہی، حق، عدل، آزادی اور شرف کا تحفظ جہاد سے وابستہ ہے۔ اور قیام امام حیسن(ع) کا فلسفہ بھی انسانی اقدار اور دین کے بلند و برتر مفاہیم کو زندہ کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا۔

2۔ پیغمبر اکرم(ص) نے متعدد مقامات پر امام حسین(ع) کی شہادت کی خبر دی تھی، کہ جنہیں شیعوں کے علاوہ سنیوں نے بھی نقل کیا ہے۔ ایک محقق کے بقول اس طرح کی حدیثوں میں ان کے مضامین و مفاہیم کی درستی پر قرینہ بھی پایا جاتا ہے اور یہ متواتر بھی ہیں۔(8)

رسول خدا(ص) نے فرمایا: "جبرئیل نے مجھے خبر دی ہے کہ میرا بیٹا حسین(ع) میرے بعد سرزمین طف میں قتل کیا جائیگا، اور اس کی مٹی وہ میرے لیے لائے اور بتایا کہ اسی سرزمین میں ان کی قبر ہوگی"۔(9)

ایک دوسری روایت میں آنحضرت(ص) نے امام حسین(ع) سے فرمایا: "ان لک فی الجنّه درجةٌ لاتنالها الا بالشهاده"۔(10)

انس بن حارث (جو آپ کے ہمراہ تھے یہاں تک کہ وہ شہید ہوئے) نے پیغمبر اکرم(ص) سے روایت کی ہے کہ: "میرا بیٹا حسین(ع) کربلا میں شہید ہوگا، جو بھی اسے پائے اس پر اس کی مدد ضروری ہے"۔(11)

اس بنا پر جس نے بھی امام حسین(ع) کی مدد نہ کی ہو یقیناً اس نے خدا اور اس کے نبی کے ساتھ جنگ اور مخالفت کی ہے۔

3۔ ابتدا سے ہی امام حسین(ع) کی رفتار و گفتار سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے آگاہانہ طور پر اس راہ کا انتخاب کیا  اور آپ کو یقین تھا کہ آپ نے خدا و رسول کے حکم پر عمل کیا ہے۔ چنانچہ اپنے بھائی محمد حنفیہ کے جواب میں فرماتے ہیں:

قَالَ أَتَانِی رَسُولُ اللَّهِ(ص) بَعْدَ مَا فَارَقْتُكَ فَقَالَ یا حُسَینُ اخْرُجْ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ شَاءَ أَنْ یرَاكَ قَتِیلًا (12)۔ جب تم میرے پاس سے چلے گئے تو رسول خدا میرے خواب میں آئے اور کہا اے حسین! (عراق کی جانب) کوچ کرو، خدا چاہتا ہے کہ تجھے اپنی راہ میں قتل ہوتا دیکھے۔

 

اس جواب پر تنقید:

امام کے انجام سے آگاہ ہونے اور اس قیام کا منشائے الہی ہونے کا کیا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ آپ(ع) کا قیام اکراہی اور جبری تھا؟

 

تنقید کا جواب: جملہ "انّ الله قد شاء ان یراک قتیلاً" میں لفظ "مشیت" کے متعلق علماء کا کہنا یہ ہے کہ اس سے مراد تشریعی مشیت ہے، تکوینی نہیں(13)۔ اور تشریعی مشیت، جبر اور سلب اختیار کا موجب نہیں بنتی۔ بعض لوگوں کے عقیدے کے مطابق مشیت خدا کا مطلب خدا کا نظام آفرینش کے متعلق علم رکھنا ہے جبکہ بعض لوگوں کی نظر میں مشیت یعنی خدا کا کسی فعل اور اس کی انجام دہی سے راضی و خوشنود ہونا ہے جو حضرت حق کے معینہ امور سے محبت کا لازمہ ہے۔(14) ان میں سے کسی بھی قول کی بنیاد پر مستقبل میں کسی فعل سے مشیت الٰہی کے متعلق ہونے کا لازمہ اس فعل کا جبری ہونا نہیں ہے۔ کیونکہ خدا کی مشیت یا اس کے ارادے کا مطلب یا تو انجام فعل کو پسند کرنا اور اس سے راضی ہونا ہے یا مسببات کا علم رکھنے کی وجہ سے فعل کے تام یونے کا علم رکھنا ہے، اور مسببات کے تام ہونے میں فاعل مختار کا ارادہ آخری جزء ہوتا ہے۔ اس بنا پر انسان کے افعال اختیاری ہونے کے ساتھ ساتھ قضا اور ارادہ الٰہی سے بھی متعلق ہوتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ گرچہ خدا کا ارادہ امام حسین(ع) کے قیام سے متعلق ہوا تھا اور حضرت(ع) اپنے انجام کار سے آگاہ تھے لیکن آپ(ع) نے اس فریضہ کو اپنے ارادے اور اپنی مکمل رضایت کے ساتھ ارادہ الٰہی کی بنیاد پر انجام دیا تھا، جیسا کہ بہتیروں نے اپنے ارادے سے اپنے آپ کو اس فیض عظیم سے محروم کرلیا تھا۔ اسی وجہ سے امام نے اپنے لشکر کے لیے تمام ساز و سامان کو آمادہ کیا تھا جو آپ(ع) کے اختیار و انتخاب پر بہترین دلیل ہے۔

 

نتیجہ:

اگر کوئی اہم مصلحت درپیش ہو جیسے دین کو بچانا اور اسلامی احکام کو باقی رکھنا تو جان کو فدا کرنا واجب ہے۔ اور یہ عمل جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف نہیں کہلائیگا۔ امام حسین(ع) کا قیام بھی اسی قبیل سے تھا۔

دوسرا نکتہ یہ ہے  کہ امام کا قیام خدا و رسول(ص) کے حکم اور اہداف مرسل اعظم(ص) کو بچانے کے لیے تھا۔ آپ کا مقصد ظلم کا خاتمہ، مسلمانوں کو بچانا اور دین اسلام کے ارکان کا دفاع کرنا تھا اور یہ عمل علم و آگاہی کے ساتھ انجام پایا ہے۔ اس بناپر امام(ع) کی شہادت، ہلاکت اور بےدلیل نہیں ہے۔

 

مزید مطالعہ کے لیے رجوع کریں:

آیة الله العظمی صافی گلپایگانی، پرتویی از عظمت حسین.

علی اصغر رضوانی، پاسخ به شبهات.

دفتر تبلیغات اسلامی، پاسخ های برگزیده.

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ بقره، آیت 195.

2۔ مکارم شیرازی، اَلْاَمْثَلُ فی تَفْسیرِ کِتابِ اَللهِ الْمُنْزَل , ج 2 , ص38.

3۔ روح البیان, ج1, ص 310؛ تبیین القرآن, ص42: تفسیر جلالین, ص34 .

4۔ انفال: آیه 42؛  حدیث طولانی ہے، لیکن ہماری بحث سے متعلق جملے اس طرح ہیں:

  فَقَالَتِ الْجِنُّ نَحْنُ وَ اللَّهِ یا حَبِیبَ اللَّهِ وَ ابْنَ حَبِیبِهِ لَوْ لَا أَنَّ أَمْرَكَ طَاعَةٌ وَ أَنَّهُ لَا یجُوزُ لَنَا مُخَالَفَتُكَ قَتَلْنَا جَمِیعَ أَعْدَائِكَ قَبْلَ أَنْ یصِلُوا إِلَیكَ فَقَالَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَیهِ لَهُمْ نَحْنُ وَ اللَّهِ أَقْدَرُ عَلَیهِمْ مِنْكُمْ وَ لَكِنْ لِیهلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَینَةٍ وَ یحْیی‏ مَنْ حَی عَنْ بَینَةٍ. (بحارالأنوار ج 44، ص 331)

5۔ بقره، آیت 154.

6۔ توبه، آیت 29.

7۔ وَ عَنْهُ عَلَیهِ السَّلام أَنَّهُ(ص) قَالَ: جَاهِدُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ بِأَیدِیكُمْ فَإِنْ لَمْ تَقْدِرُوا فَجَاهِدُوا بِأَلْسِنَتِكُمْ فَإِنْ لَمْ تَقْدِرُوا فَجَاهِدُوا بِقُلُوبِكُمْ؛ امام صادق(ع) فرماتے ہیں: رسول خدا(ص) نے فرمایا: راہ خدا میں اپنے ہاتھوں سے جہاد کرو، اگر قدرت نہ ہو تو اپنی زبان سے جہاد کرو، اور اگر اس پر بھی قدرت نہ ہو تو اپنے دل سے جہاد کرو (یعنی قلبی انکار)۔ (مستدرك‏الوسائل، ج 11، ص 17) اس طرح کی بےپناہ روایتیں حدیثی مصادر میں بیان ہوئی ہیں کہ جو جہاد کے ترک کرنے کو دین کی ذلت و نابودی کاموجب قرار دیتی ہیں۔ (الكافی ج 5، ص 3 )

8۔ لطف الله صافی گلپایگانی, پرتوی از عظمت حسین, ص50 .

9۔ وَ مِنْهَا أَنَّهُ(ص) قَالَ: أَخْبَرَنِی جَبْرَائِیلُ أَنَّ ابْنِی الْحُسَینَ یقْتَلُ بَعْدِی بِأَرْضِ الطَّفِّ فَجَاءَنِی بِهَذِهِ التُّرْبَةِ فَأَخْبَرَنِی أَنَّ فِیهَا مَضْجَعَه. (بحارالأنوار، ج 18، ص 114؛  الصواعق المحرقه, ص190؛ مقتل خوازرمی, فصل 7 , ص156.

10۔ مقتل خوارزمی, فصل 8, ص 170.

11۔ بحار الانوار, ج 44, ص 247.

12۔ سید بن طاووس, اللهوف، ص 94؛ بحار الانوار , ج 44, ص 364.

13۔ مرتضی مطهری , حماسه حسینی, ج 3 , ص 86 .

14۔  ر. ک: امام حسین و قرآن , ص128، نشر دفتر تبلیغات اسلامی .


٠٨:٣٨ - 1392/08/19    /    شماره : ٤٠٦٤٤    /    تعداد نمایش : ١٩٩


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 

خروج




بازديد کنندگان اين صفحه: 11898 بازديدکنندگان امروز: 72 کل بازديدکنندگان: 33321 زمان بارگذاری صفحه: 0/5938
جملہ حقوق سائٹ مجتمع کیلئے محفوظ ہیں.