تلاش
دقیق تر تلاش
English | فارسی | Urdu | Az | العربی
صفحه اصلی > معاونت ها و بخش های مجتمع > شعبہ تحقیقات > تحقیقات پرتو 

دینی سوالات بهجیں

سوالات اور جوابات کے عناوین



  چاپ        ارسال به دوست

دینی سوالوں کے جوابات(41)

قاعدہ "لاضرر" کا نہضت امام حسین(ع) سے رابطہ

 سوال:

قیام امام حسین(ع) کے اہم ترین دلائل میں سے اصل "امر بہ معروف و نہی از منکر" کی رعایت کرنا ہے۔ اور قاعدہ "لاضرر و لاضرار" کے مطابق، مذکورہ اصل ضرر کی موجب ہے لہٰذا تکلیف ساقط ہوجاتی ہے، پھر امام حسین(ع) نے قیام کیوں کیا؟

 

جواب:

بلاشک و تردید امر بہ معروف و نہی از منکر اصول عملی اور اہم ترین واجبات میں سے ہے کہ جس کے متعلق قرآن کریم(1) اور روایات(2) میں بارہا تذکرہ ہوا ہے۔ یہ دونوں اسلامی اصول چار شرطوں کے ساتھ واجب ہیں(3)۔ اور یہ چاروں شرطیں امام حسین(3) کے لیے فراہم تھیں:

 

1۔ معروف و منکر کے متعلق آگاہی:

معمولی افراد کے برخلاف امام(ع) کو اپنے علم لدنی کے ذریعے تمام اچھائیوں اور برائیوں کا علم تھا۔ انہیں یہ پتہ تھا کہ یزید اسلام کی بنیادوں کو متزلزل کرنا اور لوگوں کو دور جاہلیت کی طرف پلٹانا چاہتا ہے اور اگر وہ اس کے خلاف قیام نہیں کریں گے تو وہ اسلام کو نابود کردیگا۔ استاد مطہری(رح) فرماتے ہیں: "حسین(ع) نے دھندلکے میں بھی وہ چیزیں دیکھیں کہ جو لوگوں کو شفاف آئینے میں بھی نظر نہیں آتیں"۔(4)

 

2۔ تاثیر کا احتمال:

یہ بھی امر بہ معروف اور نہی از منکر کے شرائط میں سے ہے، کہ جس کی دو قسمیں ہیں:

الف: اگر گنہگار شخص کی نسبت یہ احتمال ہو کہ اس پر کسی بھی طرح سے برائیوں سے روکنے کا اثر نہیں ہوگا تو اسے روکنا واجب نہیں ہے۔

ب: اگر نہی از منکر میں فوری تاثیر کا احتمال نہ ہو، مگر یہ علم ہو کہ اس کا اثر بعد میں ہوگا تو اسصورت میں نہی از منکر واجب ہے۔

قیام امام حسین(ع) میں بھی اس طرح کی تاثیر کا احتمال تھا بلکہ امام کو یقین تھا اور انہیں یہ پتہ تھا کی ان کی تحریک اسلام کو بچا لےگی اور بقائے دین کی ضامن بن جائیگی۔ اور ان کی اور ان کے اصحاب کی شہادت اور اہل بیت کی اسیری بنی امیہ کی اسلام دشمنی کے حقیقی چہرے کو بےنقاب کردیگی۔

 

3۔ گناہ انجام دینے پر مصر ہونا: یہ تسیری شرط بھی فراہم تھی کیونکہ یزید اور دیگر حاکمان وقت نہ صرف منکرات کو انجام دیتے تھے اور معروفات کا گلا گھونٹتے تھے بلکہ وہ ان کی نشر و اشاعت کے لیے بھی مسلسل کوششیں کیا کرتے تھے۔

 

4۔ اپنے اور دوسرے مومنین کے جانی و مالی نقصان کا موجب نہ ہو: امام حسین(ع) کو علم تھا کہ امر بہ معروف اور نہی از منکر سے خود ان کو اور ان کے ساتھیوں کو شدید نقصان پہنچےگا مگر پھر بھی آپ(ع) نے ایسا کیا۔

اس قیام کے لیے دو وجہیں ذکر کی جاسکتی ہیں:

الف: فقہا نے اس شرط کی وضاحت میں کہا ہے کہ امر بہ معروف اور نہی از منکر کا موضوع دو طرح کا ہوتا ہے: کبھی موضوع کم اہمیت اور جزئی ہوتا ہے اور نہی کرنے کا نقصان زیادہ ہوتا ہے تو اس صورت میں نہی از منکر واجب نہیں ہے۔ لیکن کبھی اس کا موضوع حددرجہ لائق اہمیت ہوتا ہے تو اس صورت میں جان و مال کا نقصان اہمیت نہیں رکھتا، اس سے گزرنا واجب ہے، جیسے جب اصول دین، اصول مذہب، قرآن اور مسلمانوں کے عقائد خطرے میں ہوں۔ (5)

امام خمینی(رح) فرماتے ہیں: اگر معروف و منکر ان موضوعات مین سے ہوں کہ جو اسلام کی نظر میں اہمیت رکھتے ہیں اور ان موضوعات میں امر بہ معروف اور نہی از منکر جان دینے پر موقوف ہوں تو نہی از منکر واجب ہے۔(6)

امام حسین(ع) کو بھی اسی طرح کے حالات درپیش تھے۔ معروف جو اصل اسلام اور پیغمبر(ص) کی سنت تھی وہ نابودی اور تحریف کے دہانے پر تھی۔ آپ(ع) نے دیکھا کہ اگر اس زمانے میں اسلامی معاشرے کی حالت کو دیکھتے ہوئے امر بہ معروف اور نہی از منکر نہیں کیا گیا تو اسلام کی بنیادیں متزلزل ہوجائیں گی اور پیغمبر اکرم(ص) کی زحمتیں اور شہدائے اسلام کی جانفشانیاں بےاثر ہوجائیں گی۔ اس لیے آپ(ع) نے اپنے اوپر لازم جانا کہ قیام کریں گرچہ اس راہ میں آپ(ع) اور آپ(ع) کے گھر والوں کی جانیں بھی فدا ہوجائیں۔

دین پر آنے والے خطرات کو امام حسین(ع) نے محسوس کرلیا تھا اور ابتدائے کار میں جب مروان نے انہیں یزید کی بیعت کرنے کی نصیحت کی تو آپ(ع) نے فرمایا: "انالله وانااليه راجعون وعلي الاسلام السلام اذقدبليت الامه براع مثل يزيد"۔(7) انالله وانااليه راجعون ،ایسے اسلام کو خیرباد کہنا چاہئے کیونکہ امت اسلامی کی قیادت یزید جیسا انسان کر رہا ہے۔ ایک اور مقام پہ فرمایا: "الاترون ان الحق لايعمل به وان الباطل لايتناهي عنه ليرغب المؤمن في لقاءالله محقا"(8)۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں ہورہا ہے اور باطل سے پرہیز نہیں کیا جارہا ہے۔ ایسے حالات میں مومن کو اپنی جان سے گزرجانا چاہئے تاکہ اسے لقائے پروردگار نصیب ہو۔

ایسے خطرے اور منکر کے سامنے امام حسین(ع) کو یقیناً قیام کرنا چاہئے اور اسلام کا دفاع کرنا چاہئے تھا۔ آپ(ع) ضرر کے محتمل یا یقینی ہونے کی وجہ سے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے گھر میں بیٹھے عالم اسلام کی ان مصیبتوں کا تماشا نہیں دیکھ سکتے تھے۔

ب: دوسرے جواب کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ: شیعہ عقیدہ کے مطابق کسی بھی عمل کی شرعی دلیل معصومین علیہم السلام کا کردار اور رفتار و گفتار ہے اور ہم ان کی سیرت و عمل کو حجت مانتے ہیں۔ اگر بالفرض قاعدہ لاضرر کی عمومیت یا اس کا اطلاق امام حسین(ع) کے قیام کو بھی شامل ہو تو آپ(ع) کا عمل ہی اس عموم اور اطلاق کے لیے مقیّد اور مخصّص بن جائیگا۔ لہٰذا یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر کوئی اہم مصلحت ہو تو ان دونوں شرطوں کے وجوب یا عدم وجوب میں کسی قسم کی دخالت نہیں رہ جاتی، یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام دینا چاہئے، اگرچہ ضرر اور خطرے کا احتمال ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے امر بہ معروف اور نہی از منکر کی مصلحت کو احتمالی ضرر کے سامنے مقائسہ کرنا چاہئے۔ اگر اس کی مصلحت اہمیت کی حامل اور شرعی طور پر اس کی انجام دہی لازم ہو تو ضرر کا تحمل کرلینا واجب ہے اور امر بالمعروف کا ترک کرنا جائز نہیں۔

استاد مطہری(رح) فرماتے ہیں:

وجوب امر بہ معروف اور نہی از منکر کو اسی وقت تک لوگ قبول کرتے ہیں کہ جب تک نقصان نہ ہو لیکن جب نقصان کی بات آجائے تو بعض کہتے ہیں کہ اس اصل کی حدیں یہیں ختم ہوجاتی ہیں، یعنی وجوب اسی حد تک ہے کہ جب تک خطرہ نہ ہو اور آمر و ناہی کی جان و مال اور عزت و آبرو کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ لوگوں نے اس اصل کی اہمیت گھٹا دی ہے۔ مگر بعض یہ کہتے ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر معروف و منکر کا موضوع سادہ اور ناچیز قسم کا ہو تو احتمالی ضرر کی صورت میں اس کا وجوب منتفی ہوجاتا ہے لیکن اگر قرآن، عدالت اور اسلامی وحدت کی بات آجائے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اب میں امر بہ معروف اور نہی از منکر نہیں کرونگا، کیونکہ اگر میں کچھ بولونگا تو میری جان چلی جائیگی، میری عزت خطرے میں پڑجائیگی یا معاشرہ اسے پسند نہیں کریگا۔(9)

 

نتیجہ: قیام امام حسین(ع) کا اصل مقصد، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، سیرت نبوی و علوی کا باقی رکھنا اور دین اسلام و قرآن اور دینی اقدار کی حفاظت کرنا تھا، کیونکہ حکومت یزید کے زمانے میں اسلام اور دینی تعلیمات کو خطرہ لاحق تھا۔ اس لیے مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ امام حسین(ع) اپنی جان سے بھی گزر جائیں اور اسلام کا دفاع کریں۔ قاعدہ لاضرر، اس مہم کے ساتھ تعارض کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

فقہا کی نظر سے بھی یہ بات مسلم ہے کہ اگر امر بہ معروف اور نہی از منکر کا موضوع اہم ہو اور جان دینے پر موقوف ہو تو جان دینا واجب ہے۔ واقعہ عاشورا میں مسئلہ کچھ اسی طرح ہے۔

 

مزید مطالعہ کے لیے رجوع کریں:

1. مرتضی مطهری, مجموعه آثار،ج 17.

2. محمدتقی جعفری،امام حسين(ع) شهيدپيشروفرهنگ انسانيت.

3. پرسشهاوپاسخهاي دانشجوی،نهادنمايندگی مقام معظم رهبری دردانشگاهها،ج13.

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ آلعمران،آيت 110: كُنتُمْ خَيْرَأُمَّه أُخْرِجَتْل ِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِوَتُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَلَوْآمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًالَّهُم مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ۔

 تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی اصلاح) کےلیےپیداکیےگئےہوتم نیکی کاحکم دیتےہواوربرائی سےروکتے ہواوراللہ پرایمان رکھتےہواوراگراہل کتاب ایمان لےآتےتوخودانکےلیےبہترتھا۔ اگرچہ ان میں سےکچھ لوگ ایمان والےہیں لیکن انکی اکثریت فاسق ہے۔

2۔امام صادق(ع): "ان الامربالمروف والنهي عن المنکرسبيل الانبياءومنهاجا لصلحاء،فريضه عظيمه بهاتقام الفرائض"۔امر بہ معروف اور نہی از منکر، انبیاء کا راستہ اور صلحاء کا طریقہ ہے،اور یہ ایسا عظیم فریضہ ہے کہ جس کے ذریعے سے واجبات برپا کئے جاتے ہیں۔ (وسايل الشيعه،ج11،ص395)۔

3۔ توضيح المسائل مراجع, ج2, ص756.

4۔ مرتضی مطهری،مجموعه آثار, ج17, ص241.

5۔ ایضاً، ص 757.

6۔ تحريرالوسيله, ج 1, ص 472 .

7۔ اعيان الشيعه, ج 2, ص 2؛ابننماحلی, مثيرالأحزان،ص 26, ص 25 .

8۔ بحارالانوار, ج2, ص192.

9۔ مجموعه آثار , ج 17, ص 267.


٠٨:٣٧ - 1392/08/19    /    شماره : ٤٠٦٤٣    /    تعداد نمایش : ٢٨٨


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 

خروج




بازديد کنندگان اين صفحه: 12305 بازديدکنندگان امروز: 26 کل بازديدکنندگان: 35510 زمان بارگذاری صفحه: 1/0240
جملہ حقوق سائٹ مجتمع کیلئے محفوظ ہیں.