تلاش
دقیق تر تلاش
English | فارسی | Urdu | Az | العربی
صفحه اصلی > معاونت ها و بخش های مجتمع > شعبہ تحقیقات > تحقیقات پرتو 

دینی سوالات بهجیں

سوالات اور جوابات کے عناوین



  چاپ        ارسال به دوست

دینی سوالات کے جواب (۴۰)

حضرت امام علیؑ کی خلافت کا منصوص ہونا

سوال:

اگر حضرت امام علیؑ کی خلافت پیغمبر اکرمﷺ کی جانب سے منصوص تھی تو پھر آپؑ نے حضرت ابوبکر کی بیعت کیوں کی؟ کیا حضرت علیؑ کی طرف سے حضرت ابوبکر  کی بیعت کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ آپؑ کی خلافت کے بارے میں کوئی نص (قرآن و سنت کی کوئی شرعی دلیل) موجود نہیں تھی یا کم از کم یہ کہ  آپؑ  نے اپنے حق سے ہاتھ اٹھا لیا تھا؟

جواب:

اس سوال کے دو پہلو ہیں:

۱۔ حضرت امام علی علیہ السلام کی خلافت کا منصوص ہونا ۔

۲۔ حضرت امام علی علیہ السلام کا حضرت ابوبکر کی بیعت کرنا۔

حضرت امام علیؑ کی خلافت کے منصوص ہونے کے بارے میں کہنا پڑے گا کہ بے تحاشا دلائل موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرمﷺ کی جانب سے آپؑ کی خلافت پر تصریح ہوئی ہے اور اس امر کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہ دلائل اس انداز میں ہیں کہ پیش فیصلہ کاری (prejudgment) اور تعصب سے پاک ہر منصف مزاج انسان کو قانع کردیتے ہیں۔

۱۔ حدیث یوم الانذار:

حضرت ختمی مرتبﷺ نے اس پہلے دن ہی سے جب آپؐ نے اپنے عشیرہ اور خاندان والوں کو اپنی نبوت کا پیغام پہنچایا اور انہیں دین ِ اسلام کی دعوت دی، حضرت امام علی علیہ السلام کی خلافت کی تصریح فرمادی تھی۔

آنحضرتﷺ نے اس مجمع میں جو ’’یوم الدار‘‘ (گھر والوں کادن) یا ’’یوم الانذار‘‘ (ڈرائے جانے کا دن) کے نام سے معروف ہے، بنی ہاشم کے مردوں سے خطاب کےدوران فرمایا:

’’مجھے اللہ تعالیٰ کی جانب سے مأمور کیا گیا ہے تاکہ تمہیں اس اس چیز کی دعوت دوں جس میں دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ اس اہم ذمہ داری میں تم میں سے کون ہے جو میری مدد اور نصرت کرے گا تا کہ میرا بھائی، وصی اور خلیفہ ہو؟‘‘

اگرچہ آنحضرتﷺ نے اپنے اس تقاضا کو تین مرتبہ دھرایا لیکن حاضرین میں سے حضرت امام علی علیہ السلام کے علاوہ کسی ایک نے بھی آنحضرتﷺ نےاس تقاضا پر مثبت جواب نہیں دیا۔ آپؑ ہر بار اٹھے اور آنحضرتﷺ کی حمایت اور پشت پناہی کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار کیا۔ پیغمبر اکرمﷺ نے دو مرتبہ آپؑ کو خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا اور تیسری مرتبہ جب کوئی نہ اٹھا تو  حاضرین سے فرمایا:

’’اِنَّهذاأخِيوَوَصِيِّيوخَلِيفَتِيفِيكُم،فَاسْمَعُوالَهُوَأَطَيْعُوا۔‘‘[1]

 ’’یہ لڑکا  تم لوگوں کے درمیان میرا بھائی، وصی اور خلیفہ ہے پس اس کی بات پر کان دھرو اور اس کی اطاعت کرو۔‘‘

۲۔ حدیث منزلت:

دعوت ذو العشیرہ کے بعد بھی پیغمبر اکرمﷺ بہت سے مواقع اور مناسبتوں پر حضرت امام علی علیہ السلام کی خلافت کو بیان فرماتے تھے۔ آنحضرت ﷺ ان مواقع پر حضرت امام علی علیہ السلام کے لئے ایسی تعبیریں استعمال فرماتے تھے کہ جو آپؑ کی خلافت اور جانشینی سے پردہ اٹھاتی تھیں۔

جب پیغمبر اکرمﷺ جنگ تبوک کے لئے تشریف لے جارہے تھے تو حضرت امام علی علیہ السلام کو مدینہ میں اپنا جانشین بنایا۔ حضرت امام علیؑ جب منافقوں  کانٹے دار اور کنایہ آمیز باتوں کی شکایت کے لے آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پیغمبر اکرمﷺ نے آپؑ کے بارے میں فرمایا:

’’أمَاتَرْضيأنْتَكُونَمِنِّيبِمَنْزِلَةِهَارُونَمِنْمُوسي،إلّاأنّهُلَانُبُوَّةَبَعْدِيْ ۔‘‘[2]

’’کیا تم راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت حاصل ہے جو ہارونؑ کو موسیٰ     ؑ سے حاصل تھی سوائے یہ کہ میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے۔‘‘

یہ کہ فرمایا:

’’ اَنْتَمِنِّيبِمَنْزِلَةِهَارُونَمِنْمُوسي،إلّاأنّهُلَانَبِیَّبَعْدِيْ۔‘‘[3]

’’تمہاری مجھ سے وہی منزلت ہے جو ہارونؑ کی موسیٰ    ؑ سے تھی مگر یہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

اس حدیث میں پیغمبر اکرمﷺ کے نزدیک حضرت امام علی علیہ السلام کے مقام و منزلت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک حضرت ہارون علیہ السلام کے مقام و منزلت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ واضح ہے کہ اگر حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد زندہ رہتے تو حضرت موسی ٰ علیہ السلام کی  امت کی رہبری میں ان کے جانشین اور خلیفہ ہوتے۔

۳۔ حدیث ثقلین:

آنحضرتﷺ نے کچھ مواقع پر فرمایا:

’’ إنيتاركفيكمالثقلينماإنتمسّكتمبهمالنتضلّوا،أحدهماأعظممنالآخر: كتاباللهحبلممدودمنالسماءإليالأرضوعترتياهل‌بيتي،ولنيتفرقاحتييرداعليالحوض،فانظرواكيفتخلفونيفيهما ۔‘‘[4]

’’بے شک میں  تمہارے درمیان دو  ایسی گراں قدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ جب تک ان سے متمسک رهو گے ہر گزگمراہ نہ هو گے، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی  ہے: (ایک) اللہ کتاب ہے جو آسمان سے زمین تک پھیلی ہوئی [اللہ کی]رسی ہے اور (دوسرے) میری عترت اور میرے اہل بیتؑ ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملیں گیپس سوچ لو کہ میرے بعد تم ان سےکیا سلوک کرو گے؟‘‘

پیغمبر اکرمﷺ نے اس حدیث شریف میں قرآن مجید کے ساتھ ساتھ اپنے اہل بیت علیہم السلام کا خیال رکھنے کا حکم فرمایا ہے اور اپنی امت کو سفارش و تاکید کی ہے کہ ان دونوں سے تمسک کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ چاہتے تھے کہ مسلمین قرآن مجید  کے دامن کو اپنے آئین (ضابطہ حیات) کے طور پر اور اہل بیت علیہم السلام کے دامن کو مفسرِ قرآن مجید اور اس کو نافذ کرنے والوں کے طور پر تھام لیں تاکہ ان کو اپنی ہدایت کی ضمانت فراہم ہوجائے۔

واضح ہے کہ حضرت امام علی علیہ السلام ، آنحضرتؐ کے اہل بیت و عترت علیہم السلام کے سردار اور تمسک اور رجوع کرنے کے پہلے مصداق ہیں۔

۴۔ حدیث غدیر:

 اسی طرح آنحضرت ﷺ نے غدیر خم کے موقع پر جب اپنے اصحاب سے اس بات کا اعتراف لے لیا کہ اللہ کا رسولﷺ مسلمانوں اور اصحاب کی جانوں اور اموال پر ولایت رکھتا ہے اوران پر  خود ان سےبھی زیادہ حقدار  اور مقدم ہے تو فرمایا:

’’منکنتمولاهفعليمولاه،اللهموالمنوالاهوعادمنعاداهوانصرمننصرهواخذلمنخذله ۔‘‘[5]

’’ جس کا میں مولیٰ ہوں اس کا علیؑ مولیٰ ہے، اے اللہ! تو اس سے محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے اور اس سے دشمنی رکھ جو اس سے دشمنی رکھے اور  اس کی نصرت فرما جو اس کی نصرت کرے اور اس کو رسوا  فرما جو اسے رسوا کرے۔‘‘

اہل سنت کا حدیث غدیر پر تشکیک کا جواب:

اگرچہ اہل سنت اس حدیث کے خلافت پر دلالت کرنے پر تشکیک کرتے ہیں لیکن  قرائن یعنی اس کے پہلے والے اور بعد والے جملے واضح طور پر دلالت کرتے ہیں کہ ’’مولیٰ‘‘ سے مراد سرپرست اور حاکم ہی ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ پہلے لوگوں سے اقرار لیتے ہیں کہ کیا میں اس سے پہلے تم پر ولایت نہیں رکھتا تھا؟ اور جب اصحاب اعتراف کرلیتے ہیں کہ آنحضرتﷺ ان پر ولایت رکھتے ہیں اور ان کی جانوں پر مقدم ہیں تو فرماتے ہیں: میرے بعد یہ مقام و منزلت علی علیہ السلام کو حاصل ہوگی۔ آنحضرت ﷺ کی حضرت علی علیہ السلام کے دعا اور آپ ؑ کے دشمنوں پر نفرین بھی اس حقیقت پر واضح دلیل ہے کہ پیغمبر اکرمﷺ کے بعد حضرت علی علیہ السلام ایسے مقام پر ہیں کہ ان کے ساتھ دشمنی اللہ تعالیٰ  اور اس کے رسولﷺ کےساتھ دشمنی کے مترادف ہے اور ان کےساتھ دوستی و محبت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ دوستی کے برابر ہے۔

مزید یہ کہ ’’وانصرمننصره ‘‘ کا جملہ اس بات پر دلیل ہےکہ حضرت امام علی علیہ السلام کو حاکم اور خلیفہ ہونا چاہئے تا کہ آپؑ کی نصرت اور مدد کرنا موضوعیت رکھ سکے ورنہ ایک عام انسان کی مدد کرنا اس قدر اہمیت نہیں رکھتا کہ اس کی مددسےہاتھ کھینچنا پیغمبر اکرمﷺ کی نفرین کا مستحق قرار پائے اور اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل و  رسوا کرے۔

حضرت امام علیؑ کا حضرت ابوبکر کی بیعت کرنے کے دلائل:

جبکہ حضرت امام علیؑ کا حضرت ابوبکر کی بیعت کرنا (بالفرض اگر وہ ثابت ہو تو) آپؑ کی خلافت کے منصوص ہونے کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ آپؑ مسلمانوں کی رہبری اور اسلام کو تباہ کن خطرات سے محفوظ رکھنے پر مأمور تھے۔ یہ اہم ذمہ داری خلافت اور حکومت کی بدولت بطریق اکمل اور اتم انجام پا سکتی تھی لیکن جب آپؑ لباس خلافت میں یہ ذمہ داری انجام نہ دے سکے تو معارض اور آج کی اصطلاح میں ’’اپوزیشن‘‘ کے لبادے میں اس ذمہ داری پر عمل کرتے ہیں۔

حضرت امام علی علیہ السلام نے جب دیکھا کہ کچھ مسلمانوں کے مرتد ہونے اور ان کے مدینہ منورہ  پر یورش کرنے سے اسلام کی اساس خطرے میں ہے اور مسلمانوں کا اختلاف اور دھڑے دھڑے ہونا اسلام اور اسلامی حکومت کے ضعیف ہونے کا باعث بن رہا ہے۔ ساتھ ہی مسلمانوں کے اس کمزوری کے نقطے سے فائدہ اٹھاتےہوئے دشمن اپنی پیش قدمی کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور دوسری جانب سے ہیئت حاکمہ بھی بجائے اس کے کہ اسلام کے دشمنوں کے مقابلے میں اپنی تمام تر توانائیوں کو کام میں لائے، اپنی  طاقت اور افرادی قوت کے ایک حصے کو داخلی معارضین اور مخالفین کے مقابلے میں اپنی حکومت کو بچانے کے صرف کررہی ہے اور اس کی توجہات داخلی مسائل میں الجھی ہوئی ہیں تو آپؑ نے حضرت ابوبکر کے ساتھ بیعت کرلی تاکہ وہ داخلی معارضین اور مخالفین کی جانب سے آسودہ خاطر ہوجائیں اور اپنی تمام تر ذہنی اور مادی توانائیوں کو اسلام کے دشمنوں کے خلاف کام میں لائیں، یعنی مرتدین سے لے کر روم اور ایران کی سپر طاقتوں تک کہ جو اسلام پر کاری ضرب لگانے کے لئے موقع کی تلاش میں تھے۔

اتفاق سے آپ ؑ کا ان حالات میں صبر و گزشت سے کام لینا اس بات کا مؤید ہے کہ آپؑ مسلمانوں کے حقیقی رہبر تھے  اور  اسلام کے لئے اتنی حد تک دلسوزی رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ جب اسلام کا معاملہ بیچ میں آجائے تو آپؑ ہر قسم کی قربانی اور فداکاری کے لئے حاضر ہیں،اس ماں کی طرح جو اپنے بچے کی خطرے سے حفاظت کےلئےاس بچے پر اپنے مادری کےدعوے سے بھی دستبردار ہوجاتی ہے تا کہ کم از کم اپنے بچے کی جان تو کو نجات دلا سکے۔[6]

حضرت امام علی علیہ السلام نے خود بھی اس بات کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے:

’’ فو الله ما کان يُلقي في روعي و لا يَخطر ببالي أنّ العرب تُزعج هذا الامر من بعده(ص) عن اهل‌بيته و لا أنهم مُنَحّوة عنّي من بعده فما راعني الا انثيال الناس علي فلان يبايعونه. فامسکت يدي حتي رأيت راجعة الناس قد رجعت عن الاسلام يَدعون الي مَحقِ دين محمد(ص) فخَشيت إن لم أنصر الاسلام و أهله أن أري فيه ثَلماً أو هَدماً تکون المصيبة به عليَّ اعظم مِن فوتِ ولايَتکم التي انما هي متاع ايام قلائل۔‘‘[7]

’’ خدا گواہ ہے کہ یہ بات میرے خیال میں بھی نہ تھی اور نہ میرے دل سے گزری تھی کہ عرب اس منصب کو ان کے اہل بیتؑ سے اس طرح موڑ دیں گے اور مجھ سے اس طرح دور کردیں گے کہ میں نے اچانک یہ دیکھا کہ لوگ فلاں شخص کی بیعت کے لئے ٹوٹے پڑ رہے ہیں تو میں نے (اس کی بیعت کرنے سے)اپنے ہاتھ کو روک لیا یہاں تک کہ یہ دیکھا کہ لوگ دینِ اسلام سے واپس جارہے ہیں اور پیغمبر ﷺ کے قانون کو برباد کردینا چاہتےہیں تو مجھے یہ خوف پیدا ہوگیا کہ اگر اس رخنہ اور بربادی کو دیکھنے کے بعد بھی میں نے اسلام اور مسلمانوں کی مدد نہ کی تو اس کی مصیبت روز قیامت اس سے زیادہ عظیم ہوگی جو آج اس حکومت کے چلے جانے سے سامنے آرہی ہے جو صرف چند دن رہنے والی ہے۔‘‘

مزید مطالعے کے لئے منابع و مأخذ

۱۔ علامهسيدمحمدحسينحسينيطباطبائي،امامشناسي،انتشاراتحکمت، 1421، ج 4 تا 7۔

۲۔ سيدشرفالدينموسوي،رهبريامامعلي(ع) درقرآنوسنت،ترجمةمحمدجعفرامامي،معاونتفرهنگيسازمانتبليغات، 1370۔

 

حوالہ جات:

 



[1]۔  محمدبنجريرطبري،تاريخطبري،ج2،ص321،تحقيق: محمدابو‌الفضلابراهيم،بيروت،دارالتراث،طبعالثانية، 1387/1967؛عبدالرحمنبنمحمدبنخلدون،تاريخابنخلدون،ج1،ص647،بيروت،دارالفکر، 1408ق/1988؛الکامل،ج2،ص32،بيروتدارصادر، 1385ق/ 1965۔

[2]۔  أبوالحسنعليبنمحمدابناثير، (م 630)،اسدالغابةفيمعرفةالصحابة،ج3،ص601،بيروت،دارالفكر، 1989/1409۔

[3]۔  احمدبنعليبنحجرالعسقلاني (م 852)؛الإصابةفيتمييزالصحابة،تحقيق: عادلاحمدعبدالموجودوعليمحمدمعوض،ج3،ص1097،بيروت،دارالكتبالعلمية،طبعالأولي، 1415/1995؛احمدبنيحييبنجابربلاذري؛انسابالأشراف،تحقيق: محمدحميدالله،ج2،ص94،مصر،دارالمعارف، 1959۔

[4]۔  اسدالغابة،ج1،ص490۔

[5]۔  ایضاً،ج1،ص439،أبوالفداءاسماعيلبنعمربنكثيرالدمشقي(م 774)،البدايةوالنهاية،ج5،ص210،بيروت،دارالفكر، 1407/ 1986۔

[6]۔  حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں دو عورتوں کا ایک بچےپر جھگڑا ہوگیا۔ دونوں ہی کا دعویٰ تھا کہ بچہ اس کا ہے۔ حضرت امام علیؑ نے حقیقی ماں کو مشخص کرنے کے لئے حکم دیا کہ اس بچے کو بیچ سے دوٹکڑے کردیا جائے اور دونوں عورتوں کو ایک ایک حصہ دے دیا جائے۔ ان میں سے ایک عورت راضی ہوگئی جبکہ دوسری نےکہا: میں اپنا حصہ بھی اس کو دے رہی ہوں۔ حضرت امام علیؑ نے فرمایا: بچہ اس عورت کا ہے کہ جسےاپنے بچے کے قتل کئےجانے کے خوف سے اس کی محبتِ مادری نے مجبور کردیا ہے تا کہ وہ اپنا حصہ دوسری عورت کو دے دے۔(قضاوت‌هايمحيرالعقول،سيدمحسنامينعاملي،کتابفروشياسلاميه، 1371ش،ص37)

[7]۔  نهجالبلاغه،ترجمہ: علامہ ذیشان حیدر جوادی،مکتوب 62۔


٠٨:٣١ - 1392/08/19    /    شماره : ٤٠٦٤٢    /    تعداد نمایش : ٢٩٥


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 

خروج




بازديد کنندگان اين صفحه: 12308 بازديدکنندگان امروز: 29 کل بازديدکنندگان: 35513 زمان بارگذاری صفحه: 1/3120
جملہ حقوق سائٹ مجتمع کیلئے محفوظ ہیں.