تلاش
دقیق تر تلاش
English | فارسی | Urdu | Az | العربی
صفحه اصلی > معاونت ها و بخش های مجتمع > شعبہ تحقیقات > تحقیقات پرتو 

دینی سوالات بهجیں

سوالات اور جوابات کے عناوین



  چاپ        ارسال به دوست

دینی سوالات کے جواب (۳۹)

حضرت امام علیؑ کا خلافت قبول کرنے سے گریز کرنا

حضرت امام علیؑ کا خلافت قبول کرنے سے گریز کرنا

  سوال:

حضرت امام علیؑ نے خلافت قبول کرنے میں تأمل سے کام کیوں لیا در حالیکہ آپؑ کی جانب سے خلافت قبول کرنے سے گریز کرنا آپؑ کی عدم حقانیت کے مترادف ہے؟

جواب:

حضرت ختمی مرتبت ﷺ کے وصال کے بعد اسلامی معاشرہ انحراف اور تفرقے کا شکار ہوگیا اور کچھ لوگوں نے آنحضرتﷺ کی تمام تر سفارشات اور تاکیدات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آنحضرتﷺ کی رائے کے برخلاف آپؐ کا جانشین انتخاب کرلیا جبکہ پیغمبر اکرمﷺ نے خلافت کے مسئلے کو مکمل طور پر واضح فرمادیا تھا۔ اس لئے کہ آنحضرتﷺ نے اپنے خلیفہ کی خصوصیات اور شرائط بھی متعین فرمادی تھیں اور اپنے بعد خلیفہ کو بھی مقرر کردیا تھا۔ دوسری جانب دنیا کے طبگاروں اور طاقت کے تشنہ لوگوں نے اپنی رائے کی بنیاد پر  کسی اور فرد کا انتخاب کرلیا اور معاشرے کو اس کے حقیقی حق سے محروم کردیا۔ اسلامی معاشرے میں انحراف کا آغاز ،  ولید جیسے افراد کا برسراقتدار آنا کہ جس نے صبح کی نماز  چار رکعت اور نشے کی حالت میں پڑھائی[1]اور مسلمین کے بیت المال کا  بغیر حساب و کتاب استعمال کرنا اسی انحراف کے نتائج میں سے تھا۔

لوگوں نے قتلِ عثمان کے بعد تقویٰ اور عدل و انصاف کے اسوہ و پیکر یعنی حضرت علی علیہ السلام سے رجوع کیا لیکن چونکہ اس وقت کے معاشرے میں ابھی آپؑ کی عدل و انصاف کی مروج حکومت کی زمین ہموار نہیں تھی اس لئے آپؑ نے خلافت کرنے سے گریز فرمایا۔ آپؑ جانتے تھے کہ وہ جو سابقہ خلفاء کی ۲۵ سالہ حکومت دیکھ چکے ہیں ، عدل و انصاف  کی تاب نہ لا سکیں گے اور اس کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔

ہم یہاں پر اس بارے میں حضرت امام علی علیہ السلام کے فرامین کے کچھ گوشوں کو  ذکر کرتے ہیں۔ آپ ؑ کے یہ فرامین  ہماے لئے اس وقت کے معاشرے کی حالت کو بخوبی واضح کرتے ہیں۔

حضرت امام علی علیہ السلام اپنے ایک خطبے کے ایک حصے میں جو آپ نے ان لوگوں سے خطاب فرمایا تھا جو بیعت کرنے کے لئے آپؑ کے گھر اکٹھا ہوئے تھے، فرماتےہیں:

’’ دعُونى وَالْتَمِسُوا غَيْرى، فَاِنّا مُسْتَقْبِلُونَ اَمْراً لَهُ وُجُوهٌ وَ اَلْوانٌ،لاتَقُومُ لَهُ الْقُلُوبُ، وَلاتَثْبُتُ عَلَيْهِ الْعُقُولُ. وَ اِنَّ الاْفاقَ قَدْ اَغامَتْ، وَ الْمَحَجَّةَ قَدْ تَنَكَّرَتْ. وَ اعْلَمُوا اَنّى اِنْ اَجَبْتُكُمْ رَكِبْتُ بِكُمْ مااَعْلَمُ، وَلَمْ اُصْغِاِلىقَوْلِالْقائِلِوَعَتْبِالْعاتِبِ۔‘‘[2]

’’مجھے چھوڑ دو، اور (اس خلافت کے لئے ) میرے علاوہ کوئی اور ڈھونڈ لو۔ ہمارے سامنے ایک ایسا معاملہ ہے جس کے کئی رخ اور کئی رنگ ہیں۔ جسے نہ دل برداشت کر سکتے ہیں اور نہ عقلیں اسے مان سکتی ہیں( دیکھو افق عالم پر گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں۔راستہ پہچاننے میں نہیں آتا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اگر میں تمہاری اس خواہش کو مان لوں تو تمہیں اس راستے پر لے چلوں گا جو میرے علم میں ہے اور اس کے متعلق کسی کہنے والے کی بات اور کسی ملامت کرنے والے کی شرزنش پر کان نہیں دھروں گا۔‘‘

حضرت امام علی علیہ السلام کا مقصد یہ ہے کہ  بیت المال کی تقسیم تنازعات کھڑے کردے گی اور میں اس کی مساوی تقسیم میں لوگوں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھنا چاہتا بلکہ ویسے ہی عمل کروں گا جیسے رسول اللہ اور خاتم الانبیاءﷺ نے عمل فرمایا تھا۔ جب میں نے  کسی شخص کی رائے کے گمان کے بغیر انتہائی صراحت و وضاحت کے ساتھ پیغمبر اکرمﷺ کی گفتار اور رفتار میں دیکھا اور سنا ہے کہ بیت المال کے سلسلے میں سیاہ و سفید، عرب و عجم، غلام و آقا اور ۔۔۔۔ آپس میں کوئی فرق نہیں رکھتے تو ایسے میں ان کے درمیان کس طرح فرق رکھوں؟ گزشتہ لوگوں (خلفائے ثلاثہ) کے طرز فکر اور عمل کے ہوتے ہوئے یہ طریقہ کار ممکن نہ ہوگا۔ لہٰذا ’’تم میرا پیچھا چھوڑ دو اور  اپنے لئے میرے علاوہ کسی اور حاکم کو ڈھونڈ لو‘‘۔[3]

ابن ابی الحدید معتزلی جو کہ نہج البلاغہ کے شارحین میں سے ایک ہے، اس خطبے کی شرح کے آغاز میں کہتا ہےکہ اگر حضرت علی ؑ ، رسول اللہﷺ کی جانب سے امامت پر منصوص تھے تو  جائز نہیں تھا کہ اس طرح فرماتے : ’’مجھے چھوڑ دو، اور (اس خلافت کے لئے ) میرے علاوہ کوئی اور ڈھونڈ لو‘‘۔ اس کے بعد وہ کہتا ہے: حضرت علیؑ کا یہ کلام کہ فرماتے ہیں: ’’ہمارے سامنے ایک ایسا معاملہ ہے جس کے کئی رخ اور کئی رنگ ہیں۔ جسے نہ دل برداشت کر سکتے ہیں اور نہ عقلیں اسے مان سکتی ہیں۔۔۔ ‘‘ ایک عمیق باطن اور گہرےراز کا حامل ہے اور غیب کی ان اخبار سے خبر دینا ہے جنہیں حضرت امام علی ؑ واقف ہیں اور دوسرے لوگ ان سے بے خبر اور اس  حوالے سے نادان ہیں۔ یہ کلام مسلمانوں کی آپس میں جنگوں اور عظیم فتنوں کے ظہور کی خبر ہے۔

تاریخ اور تاریخی شواہد کی نشاندہی کی بنا پر لوگ قتلِ عثمان کے بعد مسجد میں جمع ہوگئے اور ہر کسی نے اپنے تئیں مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے فضل ا ور کمالات کو بیان کیا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ لوگوں نے آپؑ کی بیعت کرلی۔ لوگوں کے آپؑ کے ہاتھوں پر بیعت کرنے کے بعد آپؑ نے منبر افروز ہوکر حمد و ثنائے الٰہی اور پیغمبر اکرمﷺ پر درود و سلام کے بعد فرمایا:

’’اے لوگو! تم میرے موقف سے آگاہ ہو کہ جو رسول اللہﷺ کا موقف ہی ہے۔ میں اس سے ذرا بھی مخالفت نہیں کروں گا۔ رسول گرامی ﷺ نے فرمایا بھی ہے: میرے بعد جو بھی والی اور حاکم صراط مستقیم پر چلے گا تو ملائکہ اس کی نصرت کریں گے اور اگر راہِ حق اور سیدھے راستے سے منحرف ہوجائے تو اس کا انجام جہنم کی آگ ہے۔‘‘

ابن ابی الحدید معتزلی بیعت کے واقعے کو ذکر کرنے کے بعد بیت المال کی تقسیم کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے:

’’ حضرت علی ابن ابی طالبؑ ابتداء ہی سے ملامتوں اور سرزنشوں کا شکار ہوگئے، کیونکہ انہوں نے بیت المال کی تقسیم میں غلام و آقا اور صاحب منصب و عام فرد میں کوئی فرق نہیں رکھا۔ یہی وجہ تھی کہ  ہر کوئی  حضرت علیؑ سے گزشہ حُکّام کے زمانے میں اپنے مقام و منزلت کو جتلاتا تھا ۔۔۔۔ یہیں سے  حضرت علی ابن ابی طالبؑ کے کلام کی حکمت اور باطن ظاہر ہوتا ہے کہ کیوں آپؑ نے اس دن جب لوگ آپؑ کی بیعت کر رہے تھے، فرمایا تھا: ’’مجھے چھوڑ دو، اور (اس خلافت کے لئے ) میرے علاوہ کوئی اور ڈھونڈ لو‘‘۔[4]

اگرچہ ابن ابی الحدید معتزلی اپنے پہلے والی بات یعنی امامت کے منصوص ہونے کے مسئلے کی طرف مزید کوئی اشارہ نہیں کرتا اور صرف اتنا کہتا ہے کہ یہ کلام عمیق باطن کا حامل ہے لیکن بیعت کی تاریخی سرگزشت کو نقل کرنے کے بعد واضح طور پر جانتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کا کلام اس اعتبار سے نہیں تھا کہ آپ ؑ خلافت پر اپنی حقانیت کے بارے میں کوئی شک و تردید رکھتے ہوں بلکہ آپ کی تردید لوگوں کی عادلانہ حکومت کے تحمل کرنے کی بابت تھی کہ کہیں کل وہ عدل و انصاف کے نفاذ کے مقابلے میں مخالفت کریں اور اس کے نفاذسے مانع ہوجائیں گے۔ جیسے کہ آپ ؑ کی یہ پیش بینی حقیقت بھی ثابت ہوئی۔

 حضرت امام علی علیہ السلام نے دوسرے خطبوں میں بھی بیعت کی سرگزشت کے بارے میں گفتگو فرمائی ہے۔ من جملہ آپؑ فرماتے ہیں:

’’ فَتَداكُّوا عَلَىَّ تَداكَّ الاِْبِلِ الْهيم يَوْمَ وِرْدِها، قَدْ اَرْسَلَها راعيها، وَ خُلِعَتْ مَثانيها، حَتّى ظَنَنْتُ اَنَّهُمْ قاتِلِىَّ اَوْ بَعْضَهُمْ قاتِلُ بَعْض لَدَىَّ. وَ قَدْ قَلَّبْتُ هذَا الاَْمْرَ بَطْنَهُ وَ ظَهْرَهُ حَتّى بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ، فَكانَتْ مُعالَجَةُ الْقِتالِ اَهْوَنَ عَلَىَّ مِنْ مُعالَجَةِ الْعِقابِ، وَ مَوْتاتُ الدُّنْيا اَهْوَنَ عَلَىَّ مِنْ مَوْتاتِ الاْخِرَةِ۔‘‘[5]

’’ (میں خلافت کو قبول نہ کرتا لیکن) وہ اس طرح بے تحاشا میری طرف لپکے جس طرح پانی پینے کے دن وہ اونٹ ایک دوسرے پر ٹوٹتے ہیں کہ جنہیں ان کے سار بان نے پَیروں کے بندھن کھول کر کھلا چھوڑ دیا ہو یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ یا تو مجھے ماڑ ڈالیں گے ۔ یا میرے سامنے ان میں سے کوئی کسی کا خون کر دے گا۔ میں نے اس امر کو اندر باہر سے الٹ پلٹ کر دیکھا، تو مجھے جنگ کے علاوہ کوئی صورت نظر نہ آئی ، یا یہ کہ محمد ﷺ کے لائے ہوئے احکام سے انکا ر کر دوں لیکن آخرت کی سختیاں جھیلنے سے مجھے جنگ کی سختیاں جھیلنا سہل نظر آیا  اور آخرت کی تباہیوں سے دنیا کی ہلاکتیں میرے لئے آسان نظر آئیں۔‘‘

ایک اور  مقام پر  آپؑ فرماتے ہیں:

’’ اَما وَ الَّذى فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَاَ النَّسَمَةَ، لَوْلا حُضُورُ الْحاضِرِ، وَ قيامُ الْحُجَّةِ بِوُجُودِ النّاصِرِ، وَ ما اَخَذَ اللّهُ عَلَى الْعُلَماءِ اَنْ لايُقارُّوا عَلى كِظَّةِ ظالِم وَ لاسَغَبِ مَظْلُوم، لاََلْقَيْتُ حَبْلَها عَلى غارِبِها، وَ لَسَقَيْتُ آخِرَها بِكَاْسِ اَوَّلِها، وَ لاََلْفَيْتُمْ دُنْياكُمْ هذِهِ اَزْهَدَ عِنْدى مِنْ عَفْطَةِ عَنْز‘‘۔[6]

’’ دیکھو اس ذات کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ذی روح چیزیں پیدا کیں۔ اگر بیعت کرنے والوں کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اور وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ نے علماء سے لے رکھا ہے کہ وہ ظالم کی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پر سکون و قرار سے نہ بیٹھیں تو میں خلافت کی باگ ڈور اسی کے کندھے پر ڈال دیتا اور اس کے آخر کو اسی پیالے سے سیراب کرتا جس پیالے سے اس کے اوّل کو سیراب کیا تھا اور تم اپنی دنیا کو میری نظروں میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ ناقابلِ اعتنا پاتے۔‘‘

بنابرایں ہم حضرت امام علی علیہ السلام کے فرامین سے یہ نتیجہ لیتے ہیں کہ اسلامی اصولوں پر استوار عدل و انصاف کے نفاذ کے لئےمعاشرے کے حالات موزوں نہیں تھے۔ اسی لئے آپؑ نے حکومت کی زمام اپنے ہاتھوں میں لینے کے لئے کسی قسم کی رغبت کا اظہار نہیں فرمایا لیکن اس کے باوجود بھی جب لوگ آپؑ کے گرد اکھٹا ہوگئے اور آپؑ سے زمام حکومت سنبھالنے کی درخواست  کی تو چونکہ آپؑ پر ظاہری حجت تمام ہوچکی تھی اس لئے آپؑ نے خلافت کو قبول فرمالیا۔

وہ واقعات جو حضرت امام علی علیہ السلام کی خلافت کے دور میں رونما ہوئے سب کے سب آپؑ کی اس وقت کے معاشرے کے حالات سے گہری واقفیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ بہر حال لوگوں نے آپؑ سے بیعت کرنے کے بعد اپنی بیعت کو توڑ دیا اور حضرت امام علی علیہ السلام کی شہادت تک اپنی دشمنی کو جاری رکھا۔ آپ ؑ کی ان ناگوار اور تلخ حالات کے بارے میں پیش بینی خلافت کو قبول کرنے میں تأمل سےکام لینے کا سبب بنی ورنہ امام علی علیہ السلام نے خلافت کے لئے اپنی حقانیت اور اپنے حقدار ہونے میں کبھی بھی شک و تردید نہیں کی۔ جیسے کہ قتلِ عثمان سے پہلے آپؑ نے اچھ افراد کی شوریٰ میں اپنی حقانیت اور خلافت پر اپنے حقدار ہونے کے بارے میں  استدلال کیا ہے کہ جس کا ذکر نہیج البلاغہ میں موجود ہے۔

 

 

مزید مطالعے کے لئے منابع و مأخذ:

 

۱۔ مظهرولايت،ناظمزادهقمي۔

۲۔ شرحنهجالبلاغه،محمدتقيجعفري،ج16۔

۳۔ پياماميرمؤمنين(ع)،مكارمشيرازي،ج3۔

 

 حوالہ جات:

 



[1] ۔  غياثالدين،حبيبالسير،ج1،ص498،انتشاراتدارالكتباسلاميه،تهران1352۔

[2]۔  نهجالبلاغه، ترجمہ: علامہ مفتی جعفر حسین،خطبه۹۰.

[3]۔  محمدتقيجعفري،ترجمهوشرحنهجالبلاغه،ج16،ص90-91 دفترنشروفرهنگاسلامي،تهران،1365۔

[4]۔  ابنابيالحديد،شرحنهجالبلاغه،ج 8 ـ7،ص33 بهبعد،داراحياالتراثالعربي،بيروت، 1401.

[5]۔  نهجالبلاغه، ترجمہ: علامہ مفتی جعفر حسین،خطبہ 54۔    

[6]۔  ایضاً، خطبہ 3.        


٠٨:٢٩ - 1392/08/19    /    شماره : ٤٠٦٤١    /    تعداد نمایش : ٢٣٧


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 

خروج




بازديد کنندگان اين صفحه: 11897 بازديدکنندگان امروز: 71 کل بازديدکنندگان: 33320 زمان بارگذاری صفحه: 5/0500
جملہ حقوق سائٹ مجتمع کیلئے محفوظ ہیں.