تلاش
دقیق تر تلاش
English | فارسی | Urdu | Az | العربی
صفحه اصلی > معاونت ها و بخش های مجتمع > شعبہ تحقیقات > تحقیقات پرتو 

دینی سوالات بهجیں

سوالات اور جوابات کے عناوین



  چاپ        ارسال به دوست

دینی سوالوں کے جواب(35)

سورہ کہف کی آیت نمبر 110 کی پیغمبر (ص)کی عصمت مطلقہ سے مطابقت

 

سورہ کہف کی آیت نمبر 110 کی پیغمبر (ص)کی عصمت مطلقہ سے مطابقت

سوال

{وَ ما آتاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ ما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُو }[1] ، {وَ ما يَنْطِقُ عَنِ الْهَوى٭‏ إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْيٌ يُوحى}(2)ان دونوں آیات کے مطابق ہم پیغمبر (ص) کی عصمت مطلقہ کے معتقد ہیں(خواہ احکام میں ہو خواہ موضوعات میں)کیا {أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم}[3] کی آیت این مذکورہ آیات کو تخصیص لگا رہی ہے یا نہیں؟اگر مخصص ہو تو کیا مذکورہ بالا آیات کی دلالت فقط احکام میں عصمت پر ہوگی؟

 

مقدمه

نبوت سے متعلقہ مباحث میں کلامی کتب میں بیان ہونے والے موضوعات میں سے ایک "مسئلہ عصمت انبیاءؑ "ہے۔تفسیر میں بحث کے مناسبت سے اسکے بارے میں مطالب بیان ہوئے ہیں۔عصمت انبیاء ایسے موضوعات میں سے ہے کہ جس کے بارے میں مختلف فرقوں کے علماء کے نظریات میں بہت زیادہ فرق اور اختلاف پایا جاتا ہے۔۔ان فرقوں میں سے فقط فرقہ امامیہ ہے جس کا نظریہ سب سے الگ تھلگ ہے،جیساکہ شیخ مفیدؒ فرماتے ہیں: «ليس في الفرق الاسلاميه من يوجب لهم العصمه مطلقاً... الا الشيعه الاماميه»؛[4]اسلامی فرقوں میں سے فقط شیعہ امامیہ پیغمبروں کی عصمت مطلقہ کے قائل ہیں۔بنابریں ہم کوشش کریں گے کہ مناسب جواب دینے کیلئے پہلےعصمت مطلقہ کے اثبات کے بارے میں بحث کریں گے پھر {أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم} آیت کی وضاحت کریں گے۔

بہتر ہے جواب دینے سے پہلے عصمت کے معنی اور مفہوم کے متعلق مختصر اشارہ کریں۔

عصمت کا مفہوم

عصمت لغت میں:

صاحب مقاییس اللغۃ کلمہ «عصم» کے ذیل میں لکھتے  ہیں:اصل میں خود کو قابو میں رکھنے اور ملازمہ پر دلالت کرتا ہے اور عصمت نیز اسی سے لیا گیا ہے۔(5)

عصمت اصطلاح میں:

بعض نے اسکی اصطلاحی تعریف کرتے ہوئے بمعنی  لطف قرار دیا ہے۔شیخ مفیدؒ فرماتے ہیں:متکلمین کی اصطلاح میں عصمت اس شخص کے ساتھ مخصوص ہے جو لطف الہی اور اپنے اختیار سے خود کو گناہ اور قبیح اعمال انجام دینے سے روکے۔(6)

لیکن بعض علماء نے عصمت کو ملکۂ نفسانیہ سے تعبیر کیا ہے۔آیت اللہ جوادی آملی تحریر فرماتے ہیں:عصمت ایک قدرت مند نفسانی ملکہ ہے جو ہمیشہ معصوم انسان کے وجود میں حاضر اور ظاہر رہتا ہے اور کوئی بھی طاقت(جیسے غضب اور شہوت)اسکے زوال کا موجب نہیں بن سکتی۔

 

 

 

عصمت اور عدالت کے درمیان فرق

چونکہ عصمت کی تعریف میں ملکۂ نفسانیہ کی تعبیر استعمال ہوئی ہے یہ سوال پیش آتا ہے کہ عصمت اور عدالت کے درمینا کیا فرق ہےکیونکہ عدالت کی تعریف میں بھی ملکۂ نفسانیہ کی تعبیر استعمال ہوئی ہے؟

ان دو مقولوں کے مابین فرق اجمالی طور پر اس طرح لکھاجاسکتا ہے:وجودی مرتبہ کے اعتبار سے عدالت عصمت سے کمتر ہے۔دوسری طرف سہو ،نسیان اور غفلت عدالت کیساتھ تزاحم نہیں رکھتے درحالانکہ عصمت کے ساتھ منافات رکھتے ہیں۔اسی ضمن میں یہ نکتہ بھی ہے کہ عدالت عملی ملکات میں سے ہے نہ کہ علمی۔

 

عصمت اور بشر ہونے میں تصادم نہیں!

مخلوقات میں سے انسان کی خلقت مخصوص حالت میں اور لاثانی ہے۔صانع حکیم نے وجود انسان کو متضاد اور مختلف قوتوں سے بنایا ہے اور انہیں آپس میں اس طرح بُنا ہے کہ اسکے ارتقاء کا راز یہی پیچیدگی ہے۔

انسان یہ قدرت رکھتا ہے کہ اپنی اندرونی قوتوں کے درمیان تعادل اور توازن قائم کرکے کمال تک رسائی کے راستے کو ہومار بنا لےاور عبودیت اور قرب الہی کے سائے میں مقام عصمت کو حاصل کرلے۔اس حقیقت کا ادراک ہمارے لئے چاہے دشوار ہو کیونکہ ہم اپنی نفسانی خواہشات اور انکے حجابوں کے حصار کے قیدی ہیں۔لیکن اس اس عظیم بلند مقام تک دسترسی ممنوع نہیں ہے اور مقام عصمت اور بشر ہونے کے درمیان کسی قسم کا تضاد اور تعارض نہیں پایا جاتا۔ہر انسان اپنی وجود ظرفیت کے تناسب سے نسبی عصمت کا مالک ہے۔لیکن عصمت مطلقہ انبیاء علیہم السلام سے مربوط ہے،عقلی اور نقلی(روائی)دلائل بھی اسی مطلب پر دلالت کرتے ہیں،اگربعض  قرآنی دلیلوں سے پیغمبر اسلام (ص) کیلئے عام اور مطلق عصمت ثابت ہوتی ہے تو دوسری آیات  جو کہہ رہی ہیں کہ  {قل انما أَنَا بَشَرٌ مِثْلُ}‏[8]،سے منافات نہیں رکھتیں۔کیونکہ بشر کے معصوم نہ ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔لہذا وہ آیات جو عصمت پر دلالت کرتی ہیں اور مذکورہ بالا آیت کے درمیان عموم و خصوص کی نسبت نہیں پائی جاتی تاکہ کوئی اس آیت سے تمسک کرتے ہوئے عصمت کی تبعض یعنی امتیازی فرق اور اسکے دائرے کی محدودیت کا قائل ہو۔

عقلی اور نقلی ادلہ کی بناء پر انبیاء کو معصوم ہونا چاہیئے اور اسی طرح نبی اور رسول بھی بشر اور انسان ہونا چاہیئے کیونکہ بعثت انبیاء کا دائرہ کار انسانی معاشرے ہیں۔قرآن مشرکین کی بات پر تنقید کرتا ہے کہ وہ کہتے تھے: {ما لِهذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعامَ وَ يَمْشي‏ فِي الْأَسْواقِ لَوْ لا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذيرا}[9]؛ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چکر بھی لگاتا ہے؟!(یہ فرشتوں کے طریقہ پر عمل پیرا ہے اور نہ ہی بادشاہوں کے) اور اس کے پاس کوئی ملک کیوں نہیں نازل کیا جاتا جو اس کے ساتھ مل کر عذاب الٰہی سے ڈرانے والا ثابت ہو۔(اس کے دعوی کی صداقت کا گواہ ہو)؟!

سورہ انعام میں بھی مشرکین کی بات نقل کی گئی ہے{لَوْ لا أُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَك}[10]تفسیر شریف المیزان میں اس آیت کے ذیل میں انکی درخواست کیلئے دو احتمال ذکر کئے گئے ہیں:یا مقصود یہ ہے کہ ملائکہ آئیں اور پیغمبر ص نے انہیں جو عذاب کا وعدہ دیا ہے وہ لے آئیں یا یہ کہ فرشتہ خود رسالت کا فریضہ انجام دے اور نبی کے بجائے وہ انہیں دعوت دے یا یہ کہ پیغمبر ص کی دعوت کی تصدیق کرے۔(11)

قرآن کریم مشرکین کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے: {وَ لَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلا}[12]؛اگر( بالفرض)ہم اپنے رسول کو فرشتہ بنادیتے پھر بھی ضروری تھا کہ اس میں تمام انسانی صفات پیدا کریں اور اسے ایک مرد کی سیرت میں خلق کریں یعنی ظاہر اور باطن دونوں میں اسے انسان کی صورت میں تخلیق کرتے(13)لہذا دونوں صورتوں میں فرق نہیں کرتا کہ جسے بعنوان رسول یا نبی بھیجا جائے اس کیلئے ضروری ہے کہ انسان کی مخالف جنس کے بجائے خود انسان کی جنس میں سے ہو۔

مرحوم علامہ طباطبائی یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں: «فإنزال الملك رسولا لا يترتب عليه من النفع و الأثر أكثر مما يترتب علی إرسال الرسول البشری؛[14] بشری رسول کے بھیجے جانے سے جوفائدہ اور اثرحاصل ہوتا ہےوہ فرشتے کو رسول کے طور پر نازل کرنے سے اس میں اضافہ نہ ہوتا۔

لہذا قرآن کریم  لازمی شرائط (من جملہ عصمت) کے حامل بشر کو بعنوان رسول بھیجنے کے مسئلے کو عادی قرار دیتا ہے۔بنابریں ذیل کی بحث میں پہلے عصمت کی اقسام بیان کرتے ہوئے انکی ادلہ کی بررسی کریں گے۔

 

عصمت کی اقسام

عصمت کو دو اقسام علمی اور عملی میں تقسیم کیا ہے۔یہ دونوں اقسام ایک دوسرے قابل تفکیک ہیں مگر انبیاؑ میں موجود عصمت دونوں کیلئے جامع ہےیعنی معصوم علوم کے مرحلے میں بھی عصمت رکھتا ہے اور عمل اور کردار میں معصوم ہوتا ہے(15)

تین مراتبِ عصمت

 

گناه سےعصمت

عصمت کا ایک ضروری مرتبہ یہ ہے کہ انبیاءؑ ہر قسم کے گناہ اور قبیح فعل سے پاک اور منزہ ہوتے ہیں،وہ انسان جو دوسروں کیلئے ہادی اور تربیت کے حوالے سے نمونہ عمل اور لوگوں تک وحی الہی کا پیغام بہنچانے والے ہیں وہ خودانتہائی اعلی درجے کی  طہارت اور پاکیزگی کے حامل ہونے چاہئیں اور دلائل عقلی اور نقلی سے استفادہ ہوتا ہے کہ انبیاء عصمت مطلقہ کے مالک ہیں جن کے سید و سالار پيامبر خاتم(ص) ہیں،یعنی یہ مقدس ذوات ہر قسم کے گناہ اور برائی سے پاک اور بری ہیں۔

 

دریافت وحی  اور تبلیغ رسالت میں عصمت

عصمت انبیاء کا دوسرا مرحلہ وحی دریافت کرنے اور اسکی حفاظت اور تبلیغ رسالت میں معصوم ہونا ہے۔ان امور میں بھی انبیاء کو معصوم ہونا چاہیئے تاکہ انکی بعثت میں جو غرض اور مقصد مخفی ہے وہ حاصل ہوجائے اور نقصان سے محفوظ رہے کیونکہ اگر خطا اور اشتباہ کا احتمال دیا جائے تو لوگوں کا اعتبار ختم ہوجائے گا۔

 

شریعت کی تطبیق اور روزمرہ زندگی میں خطا سے عصمت

تیسرا مرحلہ جس میں انبیاء کا ہرقسم کی خطا ،اشتباہ اور لغزش سے عصمت اور حفاظت ضروری ہے،خطا سے محفوظ ہونا،شریعت کی تطبیق میں خطا جیسے نماز کی رکعات میں سہو یا حدود کے اجراء اور روزمرہ زندگی کے امور میں خطا ہے(16)انبیاء کی زندگی کا یہ حصہ بھی ہرقسم کی خطا اور نسیان سے محفوظ ہوتا ہے اور عصمت کے عام اور مطلق سائے تلے قرار پاتا ہے۔عقلی اور نقلی دلائل کی بنا پر انبیاء اور انکے سید اور سردار پیغمبر اسلام ص ان مذکورہ بالا تینوں مراحل میں عصمت کے حامل ہوتے ہیں۔

شیخ مفیدؒ اس آیت شریفہ: {وَ النَّجْمِ إِذا هَوى٭‏ ما ضَلَّ صاحِبُكُمْ وَ ما غَوى}[17] کے ذیل میں فرماتے ہیں: «فنفي بذالك عنه كل معصيه و نسيان؛[18](خداوند متعال نے اس فرمان کے ذریعے نبی اکرم ص کی ذات سے ہر قسم کے گناہ اور نسیان نفی کی ہے)۔

سہوالنبی کے حوالے سے بحث اور جدل ہوا ہے اور بعض روایات اس کے بارے میں نقل ہوئی ہیں لیکن عقلی اور نقلی قاطع ادلہ کے ہوتے ہوئے اس قسم کی روایات کیئے کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔شیخ طوسیؒ اس قسم کی روایات کے بارے میں فرماتے ہیں: : «لكنها في نظرنا ساقطه لقيام الدليل العقلي القطعي علی عدم جواز السهو او النسيان علی المعصوم...»؛[19]  اس قسم کی روایات ہمارے نزدیک معتبر نہیں ہیں کیونکہ ہمارے پاس معصوم کیلئے سہو و نسیان کے جائز نہ ہونے پر  قطعی عقلی دلیل موجود ہے۔

کتاب تہذیب میں فرماتے ہیں: «هذا مما تمنع العقول؛[20]یعنی عقول اس قسم کی احادیث کو قبول نہیں کرتیں۔

معرفت خدا و انبیاء اور اہداف بعثت کی طرف توجہ، ان احادیث کا غیر واقعی اور غیر حقیقی ہونا واضح کررہی ہے۔شیخ صدوقؒ فرماتے ہیں: «من نفي عنهم العصمه في شيء من احوالهم فقد جهلهم... ؛[21]یعنی جو بھی انبیاء کے حالات میں سے کسی ایک میں عصمت کی نفی کرے گویا  اس نے انبیاء کو نہیں پہچانا؛جیساکہ عرفاء کی نگاہ میں نبوت اور امامت مقام خلافت الہی پر مبنی ہے۔آیت اللہ جوادی املی کے بقول:اس مخلوق میں  خلیفۃ اللہ واحد شخص ہے جو عصمت مطلقہ کا حامل اور اسے تجلی بخشنے والا ہے۔(22)

 

عصمت انبيا کے دلائل

اس حصے میں ضروری ہے کہ انبیاء کی عصمت کے دلائل اجمالی صورت میں بیان کریں۔

 

الف) دليل عقلي

کتاب تجریدالاعتقاد میں عصمت کی دلیل کے بارے میں اسطرح آیا ہے: «و يجب علی النبي العصمه، ليحصل الوثوق فيحصل الغرض... ؛[23]پیغمبر اور نبی کیلئے عصمت واجب اور ضروری ہے کیونکہ اس سے اطمینان حاصل ہوتا ہے اور نتیجے میں بعثت کی غرض اور ہدف بھی حاصل ہوتا ہے۔

محقق طوسیؒ کی عبارت کی وضاحت کیلئے علامہ حلیؒ کا بیان ذیل میں پیش کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں:

وہ لوگ جن کی طرف پیغمبر مبعوث ہوا ہے اگر نبی کیلئے کذب اور معصیت جائز قرار دیں تو وہ امر،نہی اور افعال میں بھی نیز جائز قرار دیتے ہیں،نتیجے میں وہ اوامر کو بجا لانے میں اطاعت نہیں کریں گے؛اس دلیل کی بنا پر آپ مختصر طور پر مسئلے کی جامعیت کی وضاحت کرتے ہیں،عصمت انبیاء کا موضوع عقلی تحلیل میں بھی ایک حتمی اور ضروری امر ہے تاکہ لوگ اسکی باتوں کی صحت سے مطمئن ہوں اور انکی جانب کذب اور جھوٹ کا احتمال جیسی گمراہی میں پڑنے سے محفوظ رہیں۔

 

ب) دليل نقلي

قرآن کریم کی متعدد آیات میں یہ مسئل نظر آتا ہے کہ عصمت انبیاء اور انکی ساحت مقدس کی گناہ اور خطا سے حفاظت ایک واضح اور روشن امر ہے۔ ہم یہاں بحث کی مناسبت سے چند آیات کو ذیل میں ذکر کریں گے:

 

قرآن کریم فرماتا ہے: {وَ ما يَنْطِقُ عَنِ الْهَوى٭‏ إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْيٌ يُوحى}‏[24]؛ اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا ہے اس کا کلام وہی وحی ہے و مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے!

اس بیان کی بنا پر پیغمبر ص  جو چیز وحی کے طورپر دریافت کرتے ہیں اور اسے لوگوں کیلئے بیان کرتے ہیں،وہ وہی وحی ہے جسے خداوند نے انکے اوپر نازل کی ہے،یعنی پیغمبر ص اس مقام میں مکمل خطا اور اشتباہ سے معصوم اور محفوظ ہیں۔

ایسی آیات جو دلالت کرتی ہیں کہ وحیانی احکام کو اجرائ کرنے میں غلطی سے معصوم ہیں یعنی دریافت وحی،اسکی حفاظت اور اسکے مضامین کے اجراء سب مراحل میں عصمت ے مالک ہیں:

{فَلا وَ رَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّی يُحَكِّمُوكَ فيما شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا في‏ أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَيْت...‏ } [25]؛ پس آپ کے پروردگار کی قسم کہ یہ ہرگز صاحبِ ایمان نہ بن سکیں گے جب تک آپ کو اپنے اختلافات میں حکُم نہ بنائیں اور پھر جب آپ فیصلہ کردیں تو اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی کا احساس نہ کریں۔

 

{وَ لَوْ لا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَ رَحْمَتُه‏... وَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتابَ وَ الْحِكْمَه وَ عَلَّمَكَ ما لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ... }[26]؛ اگر آپ پر فضل خدا اور رحمت پروردگار کا سایہ نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کوبہکانے کا ارادہ کرلیا تھا اور یہ اپنے علاوہ کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے اور آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچاسکتے اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور آپ کو ان تمام باتوں کا علم دے دیا ہے جن کا علم نہ تھا ۔

آیت اللہ جوادی آملی ان دو مذکورہ بالا آیات کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں:ان دو آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ ایک طرف آسمانی کتابوں کے بھیجنے کا ہدف لوگوں کے درمیان ایسے علم پر مبنی فیصلہ ہے جو علم خداوند نے پیغمبر ص کو عطا فرمایا ہے۔

دوسری جانب حق فیصلہ کرنا احکام اور موضوعات کے علم پر موقوف ہے جیساکہ سورہ نساء کی آہت 113 دلالت کررہی ہے۔(27)

 

علامہ طباطبائی المیزان میں ان دو مذکورہ آیات کے ذیل میں فرماتے ہیں:

وہ امر جو عصمت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہےایک قسم کا علم ہے جو کہ اسکے حامل کو گناہ اورخطا سے منع کرتا ہے۔بعبارت دیگر ایسا علم جو ضلال اور گمراہی سے مانع ہے،جو کہ فرمایا ہے: {وَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتابَ وَ الْحِكْمَه}[28] اس سے مراد کتاب و حکمت کی وحی ہےاور یہ پیغمبر کیلئے تعلیم الہی کی ایک قسم ہے۔مگر خداوند کے اس  فرمان {وَ عَلَّمَكَ ما لَمْ تَكُنْ تَعْلَم}‌[29] میں علم سے مراد وہ علم نہیں ہے و کتاب و حکمت کی وحی سے ہوتا ہےکیونکہ آیت پیغمبر ص کی حادثات اور لڑائی جھگڑوں میں فیصلے کے مقام میں ہے کہ جن معاملات میں آنحضرت ص کی رائے حاصل کرتے تھے۔لہذا ان دو مذکورہ فقروں سے مراد دو قسم کے علوم ہیں:ایک وحی کے ذریعے سے حاصل ہونے والا اور دوسرا دل میں القاء ہونے والا اور  الہام خفی(30)

بنابریں مذکورہ بالا آیت کریمہ نبی کریم ص کو دو علوم کا مالک قرار دیتی ہے:ایک وہ علم کو حکم اور قضا کا منبع ہے اور وہ علم جو موضوعات کے متعلق ہے۔لہذا اس آیت کا شان نزول اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ دو لوگ آپس میں جگڑ پڑے اور پیغمبر ص کی خدمت میں شکایت لیکر آئے اور ہرایک کی کوشش تھی کہ خود کو برئ الذمہ قرار دے اور تہمت کو مدمقابل کے سر تھوپ دے۔اس مقام پر آیت کے نزول سے حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہوا۔اس بناپر مذکورہ آیت اور دیگر آیات (کہ جن سب کو بیان نہیں کیا جاسکتا )کے مطابق موضوع کاملا واضح اور روشن ہےکہ انبیائے الہی معصوم ہیں،بالخصوص اولوالعزم پیغمبر جن کے سردار رسول خاتم ص ہیں عصمت کے اعلی ترین درجات کے مالک ہیں۔قرآن پیغمبر ص کی اطاعت کو خدا وند کی اطاعت قرار دیتا ہےاور فرماتا ہے: {مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّه}‌[31]؛ جو رسول کی اطاعت کرے گا اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

فخر رازی اس آیت کے ذیل میں کہتے ہیں: «من اقوی الدلائل علی انه معصوم في جميع الاوامر و النَّواهي... و ايضاً وجب ان يكون معصوماً في جميع افعاله؛[32]یہ آیت قوی ترین دلیل ہے کہ پیغمبر ص تمام اوامر اور نواہی میں معصوم ہیں ۔ ۔ ۔ اور اسی طرح  پیغمبر ص کا اپنے تمام افعال میں معصوم ہونا واجب ہے۔

یہاں تک مذکورہ عقلی و نقلی ادلہ کی بنیاد پر ہمیں یہ نتیجہ ملتا ہے انبیاء اور بالخصوص ختمی مرتبت (ص) جو کہ سب سے افضل ہیں ،عصمت مطلقہ کے مالک ہیں۔لہذا دلیل کے اطلاق کی بنا پر ہم معتقد ہیں عصمت اپنے تما وسعتوں کیساتھ انبیاء علیہم السلام کی زندگی کے سارے زوایا کو شامل ہے جیسا کہ جمیل حمود ،اس آیت : {وَ جَعَلَني‏ نَبِيًّا وَ جَعَلَني‏ مُبارَكا}[33] کے ذیل میں جوکہ حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان سے نقل کررہی ہے،کہتا ہے : «فلو فرضنا إنّه غيرمعصوم في تشخيص الموضوعات ... يستلزم هذا عدم كونه مباركاً»؛[34] اگر بالفرض پیغمبر اسلام ص موضوعات کی تشخیص اور انکے متعلق اظہار نظر کرنے میں معصوم نہ ہو تو لازم آئے گا کہ پیغمبر اس مورد میں مبارک نہ ہو۔

 

 

آيت «انا بشر مثلكم» کا مطلب

بحث کے ابتدائی حصے میں انبیاء کی عصمت مطلقہ کی عقلی اور نقلی قطعی ادلہ کے ذریعے وضاحت کی گئی اور مختصر طور پر انہیں بیان کیا گیا،یہاں مذکورہ بالا آیت کے مطلب کی تحقیق اور تحلیل کریں گے،کیونکہ سوال یہ ہے کہ مذکورہ آیت کریمہ ان آیات کیلئے مخصص ہے جو انبیاء کی عصمت کو بطور مطلق ثابت کررہی ہیں،بالخصوص پیغمبر اسلام ص سوال کرنے والے کی مراد ہیں،تاکہ یہ بات صحیح ہونے کی ہونے کی صورت میں کہا ائے کہ پیغمبر( ص) صرف احکام میں معصوم ہیں؟

اس سوال کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ عصمت مطلقہ کی ادلہ اور اس مطلب کی بعض مذکورہ آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی مکرم ص معصوم علی الاطلاق ہیں ،وحی کے دریافت کرنے، اسکی حفاظت اور اسکی تبلیغ میں اوراسکی تطبیق اور اجراء اورزندگی کے تمام روزمرہ معمولات میں بھی معصوم ہیں۔ان آیات (جیساکہ سورہ کہف اور سورہ فصلت میں آیا ہے) اور دیگر آیات میں تخصیص اور تعمیم نہیں پائی جاتی تاکہ کوئی اس آیت سے تمسک کرتے ہوئے عصمت میں امتیاز کا قائل ہو۔مرحوم علامہ طباطبائی فسیر المیزان میں سورہ کہف کی اس آیت کریمہ کے ذیل میں فرماتے ہیں:آیت کریمہ کلمہ «انما» جو کہ حصر کا فائدہ دیتا ہے، کے ذریعے آنحضرت ص کا دوسرے لوگوں سے مماثلت میں انحصار کو بیان کررہا ہے یعنی اس سے زیادہ کچھ بیان نہیں کررہا وہ ایسی چیزوں کا گمان کرتے تھے یعنی جو بھی نبوت کا دعوی کرے وہ الوہیت اور غیبی قدرت کا بھی دعوی کرے۔لہذا ایسی چیزیں طلب کرتے تھے جن کا خدا وند کے علاوہ کسی کو علم نہیں اور اس ذات کے علاوہ کوئی اس  پر قادر نہیں۔ان چیزوں کا اذن الہی سے اپنی ذات سے نفی کرتے ہیں اور صرف یہ نکتہ کہ آپ پیغمبر ہیںاور ان پر وحی نازل ہوتی ہے اثبات کرتے ہیں۔[35]

سورہ فصلت میں اس آیت کریمہ کو مشرکین کا جواب قرار دیا ہے،کہ وہ کتے تھے: {وَ قالُوا قُلُوبُنا في‏ أَكِنَّه مِمَّا تَدْعُونا إِلَيْه} [36]؛یعنی ہمارے دل ایسے ہیں کہ جس بات کی پیغمبر ص ہمیں دعوت دیتے ہیں ہمیں سمجھ نہیں آتی اور ہمارے کانوں پر ایسا بہرے پن کا بھاری پردہ پڑا ہوا ہے کہ ہمیں یہ دعوت بالکل سنائی نہیں دیتی۔آپ کے اور ہمارے درمیان ایک ایسا حجاب ہے جو ہمیں تمہاری جانب آنے میں رکاوٹ ہے۔پس اس زیربحث آیت میں انکے جواب میں فرماتا ہے:میں بھی تمہاری طرح ایک بشر ہوں جوکہ تمہارے درمیان رہتا ہے جس طرح تم ایک دوسرے کے ساتھ زندگی اور معاشرت رکھتے ہو ، میں اسی طرح تم سے کلام کرتا ہوں جیسا کہ تم ایک دوسرے سے ہمکلام ہوتے ہو،میں ایسی جنس سے نہیں ہوں جو تمہاری جنس کے ہٹ کر ہو تاکہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی حجاب آئے(37)۔یعنی میں تمہاری طرح ایک انسان اور بشر ہوں۔میرا بات کرنا تمہاری طرح ایک فطری طریقے سے ہے پس کیسے تم اس پیغام کو نہیں سمجھتے؟اس بنا پر یہ ایت دوسری آیات کو تخصیص نہیں لگا رہی بلکہ اسکا مقصد صرف یہ ہے کہ مشرکین کے بےجا خالات یا  بے بنیاد اور فضول بہانوں کا خاتمہ کرے اور رسول اعظم (ص)کو ایک بشر کے عنوان سے پیغمبر خدا اور وحی الہی کا حامل کے طور پر تعارف کروائے۔

اس بحث کا نتیجہ یہ ہوا کہ انبیاء معصوم ہیں اور پیغمبر اسلام(ص)جو اولوالعزم انبیاء میں سے اور سب سے اشرف ہیں،آپ عصمت مطلقہ کے مالک ہیں،یہ مطلب قاطع عقلی اور نقلی ادلہ سے حاصل ہوتا ہے جو اپنے اطلاق کے ذریعے عصمت کو وسیع ترین انداز میں ثابت کرتا ہے۔لہذا مذکورہ بالا آیت{أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم} تخصیص سے مربوط نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے معنی اور پیغام کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔پس اس بحث کو اسی باب میں ژیخ صدوقؒ کے ایک جملے کے ساتھ ختم کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں: «إعتقادنا انهم موصوفون بالكمال... لايوصفون في شيء من احوالهم ينقص و لاعصيان و لاجهل؛[38]۔"ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء ہر حیثیت سے کمال اور تمام سے متصف ہیں اور نیز علم و دانش سے بھی متصف ہیں اول امور سے لیکر آخر تک اور اپنے حالات میں کسی بھی مقام پر نقض،عصیان اور جہل کے مرتکب نہیں ہوتے"۔

 

بیشتر مطالعے کیلئے منابع کی جانب رجوع فرمائیں:

 

ـ جعفر سبحاني، منشور جاويد، ج 5، ص 4 – 17، قم، دفتر انتشارات اسلامي.

 

ـ محمدتقي مصباح يزدي، راهنماشناسي، ص 90 – 104، تهران، انتشارات اميركبير، چاپ اول، 1375.

 

ـ علي شيرواني، معارف اسلامي در آثار شهيد مطهري، ص 276 – 278، قم، معاونت امور اساتيد و معارف اسلامي، 1376.

 

ـ محمدامين ارزگاني، پيامبر اعظم در نگاه عرفاني امام خميني&، ص 48 ـ 50، تهران، مؤسسه و تنظيم نشر آثار امام خميني&، چاپ اول، 1386.

 

ـ محمد سعيدي مهر، آموزش كلام اسلامي، ص 70 ـ 80، قم، مؤسسه فرهنگي طه، چاپ اول، 1378.

 

 

 

___________________________________

 

[1]. حشر، آيه 7.

 

[2]. نجم، آيه 3 و 4.

 

[3]. كہف، آيه 110.

 

[4]. محمد بن نعمان (شيخ مفيد) اوايل المقالات، ج 4، ص 165، بيروت، دارالمفيد، چاپ دوم، 1414ق.

 

[5]. احمد بن فارس بن زكريا، مقاييس اللغه، ج 4، ص 133، قم، اسماعيليان.

 

[6]. ایضا، ص 164.

 

[7]. تفسير موضوعي قرآن كريم، وحي و نبوت در قرآن، ج 3، ص 197، قم، مركز نشر اسراء، چاپ اول، 1381.

 

[8]. كہف، آيه 110.

 

[9]. فرقان، آيه 7.

 

[10]. انعام، آيه 8.

 

[11]. تفسير الميزان، ج 7، ص 20 ـ 22، قم، مؤسسه اسماعليان.

 

[12]. انعام، آيه 9.

 

[13]. تفسير نمونه، ج 5، ص 160 ـ 162.

 

[14]. تفسير الميزان، ج 7، ص 23، قم، مؤسسه السماعليان.

 

[15]. تفسير موضوعي قرآن کريم، ایضا، ص 197 ـ 199.

 

[16]. جعفر سبحاني، الالهيات علي هدي الكتاب و السنه و العقل، قم، جامعه المصطفي’ العالميه.

 

[17]. نجم، آيه 1 و 2.

 

[18]. مصنفات شيخ مفيد، المؤتمر العالمي الالفيه الشيخ المفيد، ج 4، ص 63، چاپ اول، 1413ق.

 

[19]. الاستبصار، ج 1 ـ 2، ص 367 ـ 368، بيروت دارالتعارف، 1412ق.

 

[20]. تهذيب الاحكام، ج 2، ص 181، تهران، دارالكتب الاميه، چاپ چهارم، 1365.

 

[21]. بحار الانوار، ج 11، ص 72، بيروت، مؤسسه الوفاء، چاپ چهارم.

 

[22]. تفسير موضوعي قرآن کريم، ص 237.

 

[23]. كشف المراد، ص 155 ـ 156، قم، مؤسسه امام صادق× چاپ اول، 1375.

 

[24]. نجم، آيه 3 ـ 4.

 

[25]. نساء، آيه 65.

 

[26]. نساء، آيه 113.

 

[27]. تفسير موضوعي قرآن کريم، ص 218 ـ 219.

 

[28]. نساء، آيه 113.

 

[29]. ایضا.

 

[30]. تفسير الميزان، ج 5، ص 77 ـ 80، قم، مؤسسه اسماعيليان، چاپ دوم، 1360.

 

[31]. نساء، آيه 80.

 

[32]. امام فخررازي، التفسير الكبير، ج 9 ـ 10، ص 193، بيروت، داراحياء التراث العربي.

 

[33]. مريم، آيه 30 و 31.

 

[34]. محمد جميل حمود، شبهه القاء المعصوم نفسه في التهلكه، ج 1، ص 320.

 

[35]. تفسير الميزان، ج 13، ص 405.

 

[36]. فصلت، آيه 5.

 

[37]. تفسير الميزان، ج 17، ص 361.

 

[38]. شيخ مفيد، قبلی، (مصنفات شيخ مفيد)، ص 96.


٠٨:١٨ - 1392/08/19    /    شماره : ٤٠٦٤٠    /    تعداد نمایش : ٤٣٨


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 

خروج




بازديد کنندگان اين صفحه: 12309 بازديدکنندگان امروز: 30 کل بازديدکنندگان: 35514 زمان بارگذاری صفحه: 1/1640
جملہ حقوق سائٹ مجتمع کیلئے محفوظ ہیں.