تلاش
دقیق تر تلاش
English | فارسی | Urdu | Az | العربی
صفحه اصلی > معاونت ها و بخش های مجتمع > شعبہ تحقیقات > تحقیقات پرتو 

دینی سوالات بهجیں

سوالات اور جوابات کے عناوین



  چاپ        ارسال به دوست

دینی سوالوں کے جوابات (64)

آزادی اور فلسفہ عبادت

سوال یہ ہے کہ اگر انسان کو آزاد پیدا کیا گیاہے تو پھر اسے خدا کی عبادت کا حکم کیوں دیا گیاہے؟ عبادت کا مطلب کسی کے سامنے جھکنا، کرنش بجالانا اور اپنی ذلت و ناتوانی کا اظہار کرنا ہے۔ کسی بھی وجود کے سامنے سرجھکانا انسان کی آزادی کے ساتھ متصادم ہے پس عبادت حقیقت میں آزادی کے ساتھ متصادم ہے۔ اس سوال کا مختصر سا جواب یہ دیا جاسکتا ہے کہ یہ سوال حقیقت میں عبادت کے بارے میں غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔عبادت انسان کی آزادی کے ساتھ نہ صرف متصادم نہیں ہے بلکہ آزادی کو اہمیت دیتے ہوئے ایک خاص سمت میں لے جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عبادت خدا سے دوری نے انسان کو ذلت و خواری کا طوق پہنایا اور اس کی عظمت و آزادی کو چھین لیا ہے۔ جب بھی انسان خود کو مذہب سے بیگانہ اور دینی احکام سے لاتعلق کرتا ہے تو بہت سی دوسری چیزوں میں مبتلا ہوکر جاہ و مقام، شہوت، شہرت، نفس امارہ اور شیطان کی عبادت و بندگی میں مصروف ہوجاتا ہے۔ اس بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کی طرف توجہ اور عبادت و بندگی کے ذریعہ اس سے رابطہ ہی حقیقی آزادی ہے؛ چنانچہ قرآن مجید رسول اکرمﷺ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمارہا ہے:"وَيضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيهِمْ" اور ان پر لدے ہوئے بوجھ اور (گلے کے ) طوق اتارتے ہیں۔ اسی طرح ایک مقام پر ارشاد باری تعالی ہے؛ اللہ ایک شخص (غلام) کی مثال بیان فرماتا ہے جس (کی ملکیت) میں کئی بد خو (مالکان) شریک ہیں اور ایک(دوسرا) مرد (غلام) ہے جس کا صرف ایک ہی آقا ہے ، کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ یعنی وہ شخص جو خدائے یکتا کے سامنے سرتسلیم خم کرے اور اسی کی عبادت کرے کیا ایسے شخص کے مساوی ہوسکتا ہے جو چند افراد کے سامنے کرنش بجالائے اور ان کا بندہ ہو؟! ایسے شخص کی غلامی خدا کے سامنے جھکنے والے شخص کی نسبت کئی گنا زیادہ ہوگی۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر انسان خدا کی عبادت و بندگی کو آزادی سے متصادم قرار دے گا تو سینکڑوں خداؤں کا بندہ بن کر رہ جائے گا۔ ہرکس کہ گریزد زخرابات شہر بارکیش غول بیابان شود یا قرآن کے الفاظ کے مطابق یوں کہیں؛ "َفمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ" پس حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا رہ گیا؟ آزادی اور عبادت کے باہمی تعلق کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ہم اپنے بنیادی سوال کی طرف پلٹتے ہیں کہ فلسفہ عبادت کیا ہے؟ عبادت کا لغوی اور اصطلاحی معنی لغت کی کتابوں میں عبادت کے مختلف معانی بیان ہوئے ہیں ذیل میں چند معانی کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ۱۔ ذلت و پستی کے ساتھ کسی کی پرستش کرنا: کسی شاعر نے بیان کیا ہے "اري المال عند الباخلين معبداً" میں دیکھ رہا ہوں کہ مال و دولت بخیلوں کو اتنی عزیز ہے کہ انتہائی ذلت کے ساتھ اسے پوج رہے ہیں۔ ۲۔ کسی چیز کو اپنی ملکیت میں لینا:"اعبد الغلام" یعنی غلام کو اپنی ملکیت میں لیا۔ ۳۔ خضوع اور اظہار ذلت:"عبادت کی حقیقت خضوع اور اظہار ذلت ہے" یا عبودیت ذلت کا اظہار اور عبادت خضوع و اظہار ذلت کی انتہاء ہے۔ پس لغوی اعتبار سے عبادت کا مطلب انکساری، ملکیت، خضوع اور انتہائی انکساری کے ساتھ بندگی کا اظہار ہے۔ اصطلاح میں عبادت پرستش اور پوجنے کو کہا جاتا ہے قرآن مجید میں ارشاد ہے؛ "وَيعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يضُرُّهُمْ وَلَا ينْفَعُهُمْ" اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں جو نہ انہیں ضرر پہنچا سکتے ہیں اور نہ انہیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں۔ اسی طرح اطاعت اور پیروی کو بھی عبادت کہا جاتا ہے چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے؛ " أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيكُمْ يا بَنِي آدَمَ أَنْ لَا تَعْبُدُوا الشَّيطَانَ" اے اولاد آدم! کیا ہم نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی اطاعت و پیروی نہ کرنا؟ علامہ طباطبائی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:"عبادت کا مطلب اطاعت کرنا ہے اور عقلی لحاظ سے بھی یہی درست ہے کیونکہ عبادت خضوع کے اظہار کا ذریعہ اور بندہ کا اپنی بندگی کو مجسم کرنے کا وسیلہ ہے۔ عابد اپنی عبادت کے دوران اس حقیقت کو مجسم کرنا چاہتا ہے کہ وہ اپنے معبود کے ارادے سے ہٹ کر کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور اپنے معبود کی رضا و منشاء سے جدا کوئی عمل انجام نہیں دیتا۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ انسان حقیقت میں جس کی اطاعت کرتا ہے اسی کی عبادت کرتا ہے اور اسے اپنا معبود قرار دیتا ہے" روایات میں بھی صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ عبادت کا معنی اطاعت ہے۔ حضرت امام صادقؑ فرماتے ہیں؛ "من اطاع رجلاً في معصية الله فقد عبده" جس نے خدا کی معصیت میں کسی شخص کی اطاعت کی اس نے حقیقت میں اس شخص کی عبادت کی ہے۔ اس لحاظ سے عبادت کا اصطلاحی معنی پرستش اور اطاعت ہے اور ان دونوں معنوں میں عبادت کا حقیقی حقدار خداوند متعال ہی ہے۔ توحید پرست انسان صرف خدا ہی کی عبادت بجالاتا ہے اور صرف اسی کی اطاعت کرتا ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جن کی اطاعت و پیروی کا حکم خدا نے دیا ہے ، ان کی اطاعت و پیروی بھی حقیقت میں خدا ہی کی اطاعت و پیروی ہے۔ الغرض خداوند متعال کی اطاعت و پیروی کسی بھی صورت میں انسان کی آزادی کے ساتھ متصادم نہیں ہے اور "فلسفہ عبادت" کی گفتگو میں یہ حقیقت مزید روشن ہوجائے گی۔ فلسفہ عبادت یہ سوال جو ہمیشہ انسان کے ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی عبادت و پرستش کا حکم کیوں دیا ہے؟ عبادت کا حکم دینے کا فلسفہ کیا ہے؟ یا دوسرے لفظوں میں کہا جائے کہ اللہ تعالی نے اگر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے تو پھر عبادت کا حکم کیوں دیا ہے؟ علماء و دانشوروں کے نزدیک عبادت زندگی اور آزادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ انسانی ضرورت ہے۔انسان کی فطری ضروریات میں سے ایک اہم حس عبادت و پرستش ہے۔ نفسیات کے ماہرین انسان میں جمالیاتی حس کی طرح مذہبی و دینی حس کا بھی اقرار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دینی حس انسانی روح کے بنیادی عناصر میں شامل ہے اور اس حقیقت کا ادراک فطری اور عقلی طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔ شہید مطہری کے نزدیک عبادت انسان کی ضرورت ، اس کی فطری ہویت کا حصہ ہے اور انسان کی خلقت کا مقصد ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے؛ "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيعْبُدُونِ" ہم نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا سوائے اس کے کہ وہ عبادت کریں۔انبیاء عبادت نہیں لائے۔ عبادت کو انہوں نے نہیں بنایا۔ عبادت تو انسان کی فطرت کا ایک حصہ ہے۔انبیاء اس لیے آئے ہیں تاکہ عبادت کی نوعیت، آداب و اعمال کو منظم کرکے انسان کو تعلیم دیں اور انسان کو غیرخدا کی عبادت سے روکیں۔ اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ عبادت حقیقت میں انسان کی فطری ضروریات اور تقاضوں کا جواب ہے۔ قرآن مجید میں انسان کی اس فطری ضرورت کو مرتے دم تک انجام دینے کی تاکید کی گئی ہے؛ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: "وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يأْتِيكَ الْيقِينُ" اپنے رب کی عبادت کرو یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے۔ آیت مجید میں استعمال ہونے والے لفظ "یقین" کو یقین کے معروف معنی میں سمجھا گیا ہے اور موت کے معنی میں بھی لیا گیا ہے جیساکہ بعض دیگر مقامات پر لفظ "یقین" موت کے معنی میں استعمال ہوا ہے؛ "وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيوْمِ الدِّينِ۔۔۔" اور ہم روز جزا کو جھٹلاتے تھے، یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی۔ موت کو یقین اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ موت کے وقت پردے ہٹ جاتے ہیں اور تمام چیزیں آشکار ہوجاتی ہیں اور حقائق الہیہ بخوبی سمجھ میں آتے ہیں۔ پس اگر عبادت انسان کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت مرتے دم تک جاری رہتی ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ کونسی ضرورت و طلب ہے جو عبادت کے ذریعہ تکمیل پاتی ہے؟ انسان ہمیشہ عبادت کا محتاج ہے اور یہ انسان کی ایک دائمی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں علامہ طباطبائی نے ایک نکتہ بیان فرمایا ہے جس کا خلاصہ درج ذیل ہے: کائنات میں موجود ہر چیز تکامل کے راستے پر گامزن ہے۔انسانی تکامل کا سفر اجتماع اور سماج کے دامن میں انجام پاتا ہے۔ سماج اور معاشرہ صرف اس صورت میں انسان کے تکامل کی ضمانت دے سکتا ہے جب اس پر خدا کے سامنے سپردگی اور تعبد کی روح حاکم ہو اور خدائی اصول قوانین کے تحت معاشرہ خدائے واحدکی طرف گامزن ہو۔ایسی صورت میں اگر انسانی معاشرہ نیک اور صالح بن جائے گا تو معاشرے کے افراد اپنے ہدف خلقت اور تکامل کو حاصل کرسکتے ہیں اور اگر معاشرہ فاسد و خراب ہو تو معاشرے کے افراد تکامل کی راہ پر قدم نہیں بڑھاسکتے۔ مذکورہ بالا وضاحت کی روشنی میں ہر انسان کو عبادت و بندگی کی ضرورت ہے ؛ کیونکہ عبادت نفسانی فضائل و کمالات کے حصول کا سرچشمہ ہے۔ جب بھی عبادات کو مناسب طریقے اور انداز سے وسیع پیمانے پر انجام دیا جاتا ہے تو نفسانی فضائل و کمالات انسان میں نفوذ کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں نیک کام کرنے کا جذبہ بڑھ جاتا ہے اور انسان عبادت و اطاعت کو مزید خلوص کے ساتھ بجالاتا ہے۔اس لیے خداکے سامنے انسان میں جتنا تعبد و سپردگی ہوگی غیر خدا کی قیدو بند سے اسی مقدار میں آزادی ہوگی۔یہی وجہ ہے کہ اولیائے خدا ہمیشہ قرب الہی، بندگی، اور اس کی بارگاہ میں سرتسلیم خم کرنے ے لیے کوشاں رہے۔ خداوند متعال کو انسانوں کی عبادت کی کوئی ضرورت و احتیاج نہیں ہے؛ کیونکہ وہ غنی مطلق ہے۔ حقیقت میں یہ انسان ہے جو عبادت کا محتاج ہے تاکہ اس طریقے سے اپنی کمی کاستی کو پورا کرے۔ دنیاوی نظا م بندگی میں غلام جیسے جیسے اپنے آقا کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے ویسے ویسے آقا اپنے بندے کے سامنے خاضع ہوتا چلا جاتا ہے کیونکہ آقا کو اپنے غلام کی ضرورت ہوتی ہے لیکن نظام خالقیت و عبودیت الہیہ میں بندہ جتنا خدا کے نزدیک ہوتا ہے مقام تعبد و بندگی بڑھتا چلا جاتا ہے کیونکہ جتنا عبودیت و تعبد میں اضافہ ہوتا ہے عظمت خدا کو زیادہ سمجھنے لگتا ہے اور جب عظمت خدا کو بہتر طور پر درک کرتا ہے اور تو خود کو پہلے سے زیادہ محتاج و ضرورت مند پاتا ہے۔ نظام عبادات خداوند متعال کے ثابت و مستقل قوانین میں سے ہے۔ قرآن کریم کی متعدد آیات میں عبادت کے محرکات و فلسفہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ذیل میں بطور نمونہ چند آیات پیش کی جارہی ہیں: ۱۔خالقیت خدا: اللہ تعالی کی خالقیت کا تقاضا ہے مخلوق اپنے خالق کے سامنے سرجھکائے ؛ اللہ تعالی کی خالقیت کا اعتراف اس کے لامحدود کمال کے کا اعتراف ہے۔ اس قسم کے کمال کا احساس عبد کو معبود کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے؛ اسی لیے قرآن مجید میں ارشاد ہے:"اے لوگو!اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے والے لوگوں کو خلق فرمایا۔" ۲۔مشکلات اور غم و اندوہ سے نجات : نفسیاتی دباؤ اور مادی مشکلات ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے فلسفہ عبادت اور خداوند متعال کی طرف توجہ کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ خداوند متعال رسول اکرمﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمارہا ہے: " فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ " اور بتحقیق ہمیں علم ہے کہ یہ جو کچھ کہ رہے ہیں اس سے آپ یقیناً دل تنگ ہو رہے ہیں۔ پس آپ اپنے رب کی ثنا کے ساتھ تسبیح کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں ۳۔شکر و سپاس:خوشحالی و آسائش، فتح و کامیابی و ۔۔۔ ایسے موارد ہیں جن میں انسان کو چاہیے کہ خدا کو یار رکھتے ہوئے اس کی عظمت کے سامنے سرجھکائے اور خود کو اس کے سپرد کردے؛ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا" جب خدا کی مدد اور فتح حاصل ہوگئی تو اس حالت میں اپنے رب کی ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں یقیناً وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ معصومین علیہم السلام کی احادیث میں بھی میں عبادت اور احکام کے فلسفہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؛ چنانچہ حضرت فاطمہؑ ارشاد فرماتی ہیں: خدا نے ایمان کو شرک سے محفوظ رہنے کا ذریعہ قرار دیا۔ نماز کو واجب کیا تاکہ تمہیں تکبر سے پاک کرے۔ زکات کو واجب قرار دیا تاکہ اس کے بندوں میں اخلاص مزید قوی ہو۔ حج کو واجب فرمایا دین مضبوط ہو۔ عدل و انصاف کو مقرر فرمایا تاکہ قلوب ایک دوسرے سے وابستہ اور قریب ہوں اور ہم اہل بیت کی اطاعت کو واجب گردانا تاکہ شریعت منظم ہو۔ امام رضاؑ فرماتے ہیں: اگر کوئی یہ سوال کرے کہ خدا نے لوگوں پر بعض کام واجب کیوں قرار دیئے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے یہ اس لیے فرمایا ہے تاکہ لوگ خدا کو بھول نہ جائیں اور اس کی عظمت کی طرف توجہ چھوڑ نہ دیں۔ اگر اللہ تعالی ان پر یہ واجب نہ کرتا اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیتا تو وقت کے ساتھ ساتھ سخت اور تندی کی جانب مایل ہوجاتے۔ نتیجہ ۱۔ یہ درست ہے کہ انسان کو آزاد خلق کیا گیا ہے لیکن اس کی آزادی کسی بھی صورت میں اللہ تعالی کی عبادت کے ساتھ متصادم نہیں ہے؛ کیونکہ عبادت آزادی کو اہمیت دینے کے علاوہ اسے مثبت رخ عطا کرتی ہے۔ ۲۔ عبادات انسان کی ضرورت اور تقاضا ہیں۔ عبادات نہ صرف انسانی آزادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہیں بلکہ انسان کے تکامل کا ذریعہ بھی ہیں۔ تکامل آزادی کے ساتھ متصادم نہیں ہے ۔ غیر خدا کے سامنے جھکنا انسان کی آزادی کے ساتھ ناسازگار ہے اور یہی چیز انسانی تکامل اور خدا کی قربت میں آڑے آتی ہے۔ جو بھی خدا سے دور ہوتا ہے غفلت کا شکار ہوجاتا ہے۔ انسان کی ذلت و خواری کا سب سے اہم سبب غفلت ہی ہے۔ ذلت و خواری انسانیت کے ساتھ متصادم ہے۔ اس سلسلہ میں چند آیات و روایات کی جانب بھی اشارہ کیا جاچکا ہے۔ ۳۔ عبادات کا فلسفہ : خالقیت خدا کے مقابلے میں شکر و سپاس اور غم و اندوہ و دنیاوی مشکلات سے نجات پانے کے لیے عبادات انجام دی جاتی ہیں۔ مزید مطالعہ کے لیے رجوع فرمائیں: ۱۔ انسان درقرآن، حسن زاده آملي، ناشر:رجا، تهران، 1375. ۲۔ اسرار عبادت، جوادي آملي، ناشر:اسرا، قم، 1368. ۳۔ آموزش عقايد، علامه طباطبايي، ناشر:دفتراسلامي، قم. اختتامی حدیث حضرت امام علیؑ نے فرمایا: اے فرزند آدم! اپنی ضرورت سے زیادہ جو کچھ اکٹھا کرتے ہو وہ حقیقت میں دوسروں کے لیے ہوتا ہے۔


٠٨:٥٩ - 1392/02/22    /    شماره : ٢٨٣٤٣    /    تعداد نمایش : ٣٥٤


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 

خروج




بازديد کنندگان اين صفحه: 12307 بازديدکنندگان امروز: 28 کل بازديدکنندگان: 35512 زمان بارگذاری صفحه: 1/0200
جملہ حقوق سائٹ مجتمع کیلئے محفوظ ہیں.