تلاش
دقیق تر تلاش
English | فارسی | Urdu | Az | العربی
صفحه اصلی > معاونت ها و بخش های مجتمع > شعبہ تحقیقات > تحقیقات پرتو 

دینی سوالات بهجیں

سوالات اور جوابات کے عناوین



  چاپ        ارسال به دوست

دینی سوالوں کے جوابات (63)

قرآن انسانوں کی سعادت کا عامل

جواب:یہ کہنا کہ قرآن بدو عربوں کے لیے نازل ہوا، صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ کسی چیز کا کسی خاص قسم میں ظہور کرنا اور اس چیز کے اس قوم کے ساتھ مختص ہونے میں فرق ہے۔ قرآن نے کہیں بھی عربوں سے خطاب نہیں کیا بلکہ ہمیشہ"ناس" (تمام لوگ) اور (الذين آمنوا) کی تعبیر استعمال کی ہے جو ہر دور کے ہر نسل سے وابستہ ہر خدا جو انسان کو شامل ہے۔ اب ہم اس سوال کا تفصیل سے جواب پیش کرتے ہیں۔ ا۔ دین کا فطری ہونا: قرآن اور دین اسلام کے نا قابل انکار حقائق میں سے ایک اصیل اور ثابت انسانی فطرت اور ضروریات کے مطابق عقائد، اخلاقی دستورات اورقانونی احکام اور اصول کو پیش کرنا ہے۔قرآن و سنت کے احکام و تعلیمات فطرتِ بشر جو سب کےلیے برابر، ثابت اور ابدی ہے، کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسطرح سے بنائے گئے ہیں کہ جب تک فطرت موجود ہے، دین، قرآن اور سنت کی تعلیمات بھی نافذ ہیں؛ لہذا بدو عربوں اور آج کے انسان کی فطرت ایک ہے۔ قرآن کریم نے اس امر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا:فَأَقِمْوَجْهَكَلِلدِّينِحَنِيفًافِطْرَةَاللَّهِالَّتِيفَطَرَالنَّاسَعَلَيْهَالاتَبْدِيلَلِخَلْقِاللَّهِذَلِكَالدِّينُالْقَيِّمُوَلَكِنَّأَكْثَرَالنَّاسِلايَعْلَمُونَ (۱) تو تم ایک طرف کے ہوکر دین ِ پروردگار کی طرف متوجہ ہو جاو، یہ وہ فطرت ہے کہ جس کے لیے خدا نے انسانوں کو خلق کیا ہے، خدا کی آفرینش میں کوئی تغیر و تبدل نہیں۔ یہی استوار دین ہے؛ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ حضرت علی نے تصریح فرمائی ہے:َبَعَثَ فِيهمْ رُسُلَهُ، وَ وَاتَرَ إِلَيْهِمْ أَنْبِياءَهُ، لِيَسْتَأْدُوهُمْ مِيثَاقَ فِطْرَتِهِ»؛[2]خدا نے اپنے رسولوں کو انسانوں کی طرف بھیجا اور اپنے انبیاء کو ایک کے بعد دوسرے ذمہ داری دی کہ اس سے پیمانِ فطرت سے وفا کا جواب لیں۔ ب۔ ہدایت کسی خاص زمانے سے مخصوص نہیں قرآن ایک مقدس کتاب، خداوند لم یزل و لا یزال کی قدرت اور اس کے نا محدود علم و حکمت سے ماخوذ ہے، کسی ایک زمان و مکان میں محدود نہیں بلکہ ما فوق بشر اور کسی انفرادی تجربہ سے بالاتر ہے اور اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ کسی بھی معاشرے کی اعتقادی، اخلاقی، قانونی، حکومتی اور اقتصادی پہلو سے سرپرستی کرسکے اور اس کو ادارہ کر سکے۔إِنَّالَّذِينَكَفَرُوابِالذِّكْرِلَمَّاجَاءَهُمْوَإِنَّهُلَكِتَابٌعَزِيزٌلايَأْتِيهِالْبَاطِلُمِنْبَيْنِيَدَيْهِوَلامِنْخَلْفِهِتَنْزِيلٌمِنْحَكِيمٍحَمِيدٍ (۳) جن لوگوں نے اس ذکر(قرآن) کو نہ مانا جب وہ ان کے پاس آئی اور یہ تو ایک عالی رتبہ کتاب ہے اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہو سکتا ہے اور نہ پیچھے سے (اور) یہ دانا اور خوبیوں والے (خدا) کی اتاری ہوئی ہے۔ ایک اور آیت میں فرمایا:تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرً(۴) بابرکت ہے وہ ذات جس نے قرآن کو اپنے بندے پر نازل کیا تا کہ لوگوں کو خبردار کرے۔ (تبارک) کا لفظ وحی بھیجنے والے کی ذات و صفات کی پائیداری کو بیان کرتا ہے ، ایسے فرقان کی حکایت کرتا ہے جسے اس نے بیانِ حق اور حق کو باطل سے جدا کرنے کے لیے نازل کیا، جو ہر زمانے میں محکم ہے اور تمام اقوام اور انسانی معاشروں پر احاطہ رکھتا ہے۔ اس پائیداری کا لازمہ ہے کہ ایک طرف یہ ہستی کے حقائق کے ساتھ ہمسو ہو اور دوسری طرف تاریخ بشریت میں ہونے والی تمام تر علمی و عملی ترقی اور اس کے ماحصل کے سامنے سرخرو رہے۔قرآن کریم کی متعدد آیات میں پیمبر کے فرائض، جہان اور قرآن کریم کا تمام اہل جہان کے لیے پیام اور تما م لوگوں سے خطاب، یہ سب ہر زمانے اور ہر جگہ کے لیے بیان ہوئے ہیں؛ منجملہ یہ آیات: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ؛ ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا لیکن لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی۔ يا أَيهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ؛ اے لوگو! اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے آنے والوں کو پیدا کیا، تا کہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔(۵) يا أَيهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ؛ اے ایمان والو! صبر (اوراستقامت) اور نماز سے مدد حاصل کرو (کیونکہ) خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔(۶) يا أَيهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(۷)؛ اے لوگو! زمین سے حلال اور پاکیزہ(چیزیں) کھاو اور شیطان کی پیروی مت کرو؛ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ قرآن میں اس طرح کے عمومی خطاب کثرت سے پائے جاتے ہیں جو قرآن کو زمانی محدودیت اور کسی زمانہ نزول کے مخصوص لوگوں کے ساتھ مختص ہونے سے مبرا کردیتے ہیں اور اس کی جاودانگی کو تمام انسانوں اور تمام زمانوں کے لیے ثابت کر دیتے ہیں۔ قرآن کریم کسی خاص زمان و مکان کے لیے نہیں، اس حقیقت کو بہت سی روایات نے بھی پیش کیا۔ ان روایات میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے: امام رضا (ع)نے فرمایا:أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ:- مَا بَالُ الْقُرْآنِ لَا يَزْدَادُ عَلَی النَّشْرِ وَ الدَّرْسِ إِلَّا غَضَاضَةً فَقَالَ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَی لَمْ يَجْعَلْهُ لِزَمَانٍ دُونَ زَمَانٍ وَ لَا لِنَاسٍ دُونَ نَاسٍ فَهُوَ فِي كُلِّ زَمَانٍ جَدِيدٌ وَ عِنْدَ كُلِّ قَوْمٍ غَضٌّ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَ(۸) امام رضا (ع) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ایک آدمی نے امام صادق (ع) سے سوال کیا: قرآن کیسی کتاب ہے کہ اس کو جتنا پڑھیں اتنی نشر ہوتی اور مزید تازہ ہو جاتی ہے؟ امام (ع) نے فرمایا: اس لیے کہ خداوند عالم نے قرآن کو کسی خاص زمانے اور مخصوص لوگوں کے لیے معین نہیں کیا۔ قرآن ہر دور میں تازہ اور تا روزِ قیامت ہر قوم کے لیے قابل استفادہ ہے۔ اور فرمایا:هُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ وَ عُرْوَتُهُ الْوُثْقَی وَ طَرِيقَتُهُ الْمُثْلَی الْمُؤَدِّي إِلَی الْجَنَّةِ وَ الْمُنْجِي مِنَ النَّارِ لَا يَخْلُقُ مِنَ الْأَزْمِنَةِ وَ لَا يَغِثُّ عَلَی الْأَلْسِنَةِ لِأَنَّهُ لَمْ يُجْعَلْ لِزَمَانٍ دُونَ زَمَانٍ بَلْ جُعِلَ دَلِيلَ الْبُرْهَانِ وَ حُجَّةً عَلَی كُلِّ إِنْسَانٍ لا يَأْتِيهِ الْباطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ لا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيد(۹)؛ قرآن خدا کی مضبوط رسی اور محکم کڑی ہے؛ اس کا سچا راستہ جنت پہنچاتا اور جہنم سے نجات دلاتا ہے؛ اوقات کے گزرنے سے کہنہ نہیں ہوتی؛ زبانوں پر جاری ہونے سے ختم نہیں ہوتی، کیونکہ قرآن کسی مخصوص زمانے کے لیے نہیں بلکہ قرآن ہر انسان کے لیے رہنما اور برہان ہے اور باطل کسی طرف سے بھی اس میں داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ خدا ئے حکیم و حمید کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ حضرت علی(ع)نے فرمایا:لَا تَخْلُقُهُ كَثْرَةُ الرَّدِّ وَ وُلُوجُ السَّمْ(۱۰)(قرآن) کی تکرار اس کو کہنہ نہیں کرتی اور کان اس کو سننے سے خستہ نہیں ہوتے۔ امام باقر (ع) فرماتے ہیں: وَ لَوْ أَنَّ الْآيَةَ إِذَا نَزَلَتْ فِي قَوْمٍ ثُمَّ مَاتَ أُولَئِكَ الْقَوْمُ مَاتَتِ الْآيَةُ لَمَا بَقِيَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْ‏ءٌ وَ لَكِنَّ الْقُرْآنَ يَجْرِي أَوَّلُهُ عَلَی آخِرِهِ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَ الْأَرْضُ وَ لِكُلِّ قَوْمٍ آيَةٌ يَتْلُونَهَا هُمْ مِنْهَا مِنْ خَيْرٍ أَوْ شَرّ(۱۱) اگر کوئی آیت کسی مخصوص قوم کے لیے نازل ہو اور وہ قوم نابود ہو جائے تو آیت بھی ختم ہو جانی چاہیئے اور یوں قرآن میں سے کچھ بھی نہیں بچے گا؛ لیکن قرآن اول سے آخر تک جاری و ساری ہے کہ جبتک یہ زمین و آسمان قائم ہیں اور جبتک ایک آیت بھی کسی قوم کے لیے موجود ہے کہ جس کی وہ تلاوت کرتے ہیں (ضروری ہے کہ وہ اس کی تلاوت کریں) درحالیکہ وہ اس کی نسبت سے خیر یا شر میں ہوں گے۔ ایک اور روایت میں ہے: خدا کے احکام اور واجبات اولین و آخرین سب کے لیے یکساں ہیں مگر یہ کہ کسی علت یا خاص حادثے کی وجہ سے حکم تبدیل ہوجائے نیز حوادث کے وقت حکم کے تبدیل ہونے میں سب برابر ہیں اور واجبات سب پر یکساں طور پر ہونگے۔ جو جو گذشتہ لوگوں سے سوال ہوئے وہی آئندہ آنے والوں سے کیے جائیں گے اور ان کا حساب ہو گا۔(۱۲) مزید فرمایا:: «حلال محمد حلال ابداً الی يوم القيامه و حرامه حرام ابداً الی يوم القيامة لا يکون غيره و لا يجي‏ء غيره۔(۱۳) امام خمینی (رح) نے فرمایا: اسلام کے احکام کسی زمان و مکان میں محدود نہیں بلکہ تا ابد باقی اور لازم الاجرا ہیں۔(۱۴) خاتمیت، استمرار کی دلیل اصل خاتمیت تمام دانشوروں، مسلمانوں اور ہر فرقہ و مذہب کے نزدیک ایک مسلمہ حقیقت اور سبھی کے نزدیک مورد اتفاق ہے اور اس کا اثبات عقلی دلیل کے ساتھ ساتھ نقلی بالخصوص قرآن کے ساتھ مسلّم ہے۔ قرآن کریم نے بڑی صراحت کے ساتھ پیغمبر اسلام کو خاتم انبیاء کے طور پر خطاب کیا:}مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَلِيمً۔(۱۵) محمد تم مردوں میں سے کسی کے بھی باپ نہیں؛ لیکن خدا کے رسول اور آخری نبی ہیں؛ اور خدا کو سب چیزوں کا علم ہے۔ پیغمبر کی خاتمیت کا یہ مطلب نہیں کہ انسان ہدایتِ الہی و معنوی سے بے نیاز ہو گیا ہے بلکہ اس کا لازمہ یہ ہے کہ پیغمبر کا پیام پوری تاریخ میں تحریف سے محفوظ اور ابدی ہے۔ تجدّد نبوت کی ایک اہم علت گذشتہ ادیان کے پیروکاروں کی جانب سے ادیان کی تحریف تھی؛ اور اس خالص دین تک عام طریقے سے رسائی ممکن نہ تھی۔ آخری دین کے لیے ضروری تھا کہ وہ ایسے ہتھیاروں سے لیس ہو جو اس کو تحریف سے محفوظ رکھ سکیں۔ بعثت کا لازمہ یہ ہے کہ بشر ہمیشہ ہدایت الہی کا محتاج ہے۔ انسان کو کبھی بھی ہدایت الہی(دین) سے محروم نہیں ہونا چاہیئے۔ اگر دین الہی ختم ہو جائے اور وہ آخری دین کسی مخصوص زمانے یا علاقے کے لیے ہو تو تو انسان کی دین سے محروم رہ جائیں گے جو کہ بعثت کے لازمہ کے ساتھ منافی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ وہ دین خاتمیت کا دعویٰ کرسکتا ہے جو سب کے لیے اور ابدی ہو۔ نتیجہ: مذکورہ بالا بیان کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن کریم کسی خاص زمان و مکان کے ساتھ مخصوص نہیں اور از ابتداء تا قیامِ قیامت انسان کے ارتقاء اور سعادت کا موجب ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ " قرآن عربوں اور اس وقت کے سادہ لوح لوگوں کے لیے نازل ہوا" سراسر غلط بات ہے؛ کیونکہ قرآن نے کہیں بھی عربوں کو اپنا مخاطب قرار نہیں دیا بلکہ ہمیشہ" ناس" یعنی تمام لوگ یا "الّذین آمنوا" یعنی تمام مومنین جیسی تعبیروں کو استعمال کیا ہے کہ جو ہر دور اور ہر نسل کے خدا جو انسان کو شامل ہے۔ مزید مطالعہ کے لیے ان کتابوں کی طرف رجوع کریں: 1. مصطفي صادق رافعي، اعجاز قرآن، تهران بنياد قرآن،1361 ش. 2. محمد تقي مصباح يزدي، قرآن‌شناسي، مؤسسه آموزشي و پژوهشي امام خميني ;. 3. محمدعلي رضائی، پژوهشي در اعجاز علمي قرآن، اصفهان، انتشارات مبين. اختتامی حدیث: حضرت امام صادق نے فرمایا:بے شک یہ قرآن(وہ کتاب)ہے جس میں نورِ ہدایت ہے اور تاریک شب میں چراغ؛ پس ہوشیار انسان اس میں دقّت کرے اور اپنی دیدِ نظر کو اس کے پرتو سے وا کرے؛ کیونکہ غور و فکر کرنا، با بصارت دل کی حیات ہے اور وہ جو روشنی کی تلاش میں رہتا ہے، تاریکیوں میں نور کی وجہ سے راستہ طے کرتا ہے۔(۱۶)


٠٨:٥٩ - 1392/02/22    /    شماره : ٢٨٣٤٢    /    تعداد نمایش : ٢٧١


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 

خروج




بازديد کنندگان اين صفحه: 11900 بازديدکنندگان امروز: 74 کل بازديدکنندگان: 33323 زمان بارگذاری صفحه: 0/8750
جملہ حقوق سائٹ مجتمع کیلئے محفوظ ہیں.